کرونا وائرس: کیا چین میں پھنسے طلباء کو واپس نہ لانے کا حکومتی فیصلہ درست ہے؟

Dr Zafar Mirza

تحریر : راشد احمد

حکومت مخالف میڈیا اور اپوزیشن کے لیڈران ڈاکٹر ظفر مرزا کے اس بیان پر تنقید کررہےہیں جس میں ان کا کہنا ہے کہ چین میں پھنسے پاکستانیوں کو ملک واپس نہیں لاسکتے۔۔ان کے آنے سے ملک میں کرونا وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے۔۔۔ دانش مندی اسی میں ہے کہ ہم لوگوں کو وہاں سے نہ نکالیں۔

عبدا لرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جب تم کسی زمین کے بارے میں سنو کہ وہاں طاعون پھیلا ہوا ہے تو تم وہاں نہ جاو اور جس سر زمین میں وہ پھیل جائے اور تم وہاں ہو تو طاعون سے بچنے کے خیال سے وہاں سے بھاگ کر (کہیں اور) نہ جاؤ”۔

سیدنا عمر فاروق شام کے دورے پر جارہے تھے۔ اسی دوران ان کو اطلاع ملی کہ وہاں طاعون کی وبا پھیل گئی ہے۔ انہوں نے پلٹنا چاہا تو سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح نے اس کی بھر پور مخالفت کی اور کہا کہ آپ شام ضرور جائیں‘ کیا آپ تقدیر الٰہی سے فرار ہونا چاہتے ہیں؟

اس موقع پر سیدنا عبد الرحمن بن عوف آ گئے۔ آپ نے اللہ کے رسول کی حدیث بیان کی کہ آپ نے فرمایا: ’’جب تم کسی شہر میں وبا کی خبر سنو تو وہاں نہ جاؤ اور اگر تم وہاں (پہلے ہی) موجود ہو تو وہاں سے مت نکلو۔ سیدنا سالم بن عبد اللہ بن عمر فرماتے ہیں:ضرت عمرؓ فاروق شام میں داخل نہ ہوئے اور مدینہ واپس لوٹ گئے۔

کرونا وائرس کی وبا روکنے کیلئے عالمی ادارہ صحت کی تجویز ہے کہ چین سے شہریوں کو نہ نکالا جائے.لیکن ہمارا میڈیا جس کو ملک میں ہمیشہ کی طرح افراتفری پھیلانے کا ٹھیکہ مل چکا ہے عالمی سامراج سے،وہ طلباء کو ٹاک شوز میں بٹھا کر واپسی کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے۔

واپسی کے بعد یہاں وبا پھیلی تو یہی میڈیا رپورٹ کرے گا کہ جب اس حکومت کو علم تھا کہ ہمارے پاس اس وبا کو روکنے یا علاج کرنے کی سہولت موجود نہیں ہے وہ وہاں سے پاکستانیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ادھر لے آئے اور یہاں ان کو بے یار ومددگار چھوڑ دیا ہے اور سارا مدعا حکومت پر ڈال دیا جائے گا۔۔اور 45 فیصد شروع ہوجائیں گے کہ وہ دیکھیں جی حکومت ناکام ہوگی ہے۔

اگر پاکستان ان طلباء کی واپسی کیلئے تیار بھی ہوجائے تو چین نہیں آنے دے گا کیونکہ چین نے ووہان شہر جیسا یہ وبا پھیلی ہے پورا شہر بند کردیا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ، کاروباری مراکز بند ہیں۔ لوگوں کو ہجوم میں جانے سے انکی حکومت نے منع کررکھا ہے۔ کوئی شخص نہ شہر کے اندر آسکتا ہے اور نہ ہی باہر جاسکتا ہے۔

اس پر کامران شاہد نے اپنا پورا حصہ ڈالا اور ڈاکٹر ظفر مرزا کے بیان کو حکومت کی بے حسی پر مبنی قرار دیدیا۔۔ اپنے ٹاک شو میں بار بار چین میں موجود طلباء کے بیانات چلاتے رہے اور واپسی کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالتے رہے۔

اگر یہی طلباء واپس آجائیں اور خدانخواستہ کسی طالب علم سے کرونا وائرس پھیل جائے تو یہی کامران شاہد حکومت پر تنقید کرے گا کہ جب پتہ تھا کہ یہ وائرس پھیلے گا تو حکومت نے طلباء کو واپس کیوں بلایا۔۔

مٹھائیاں بنانیوالی گورمے بیکری کے چینل نے بھی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جس میں ایک طالب علم کا بیان چلایا کہ ڈاکٹر طفر مرزا جھوٹ بول رہا ہے، بکواس کررہا ہے۔

  • Al-Bukhaari (5739) and Muslim (2219) narrated from ‘Abd ar-Rahmaan ibn ‘Awf (may Allah be pleased with him) that he said: I heard the Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: “If you hear that it (the plague) is in a land, do not go there, and if it breaks out in a land where you are, do not leave, fleeing from it.”


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >