مغرب زدہ یہ خواتین قائل ہیں کہ مذہب ہی نے ان سے انکے حقوق چھینے ہیں

مسئلہ یہ ہے کہ ‘میرا جسم میری مرضی’ بھی مغربی درآمد شدہ تانیثیت کی طرح ‘مائی باڈی مائی چوائس’ جیسے ایک معروف مغربی نعرے کا اردو چربہ ہے۔ مغرب میں یہ نعرہ اسقاطِ حمل کی حامی خواتین استعمال کرتی ہیں۔ ہمارے ہاں مرد اسکی اپنی مرضی کی متعدد تشریحات کر رہے ہیں اور ردعمل کی کیفیت میں ہیں۔ ہماری خواتین کو اپنے حقوق اور مسائل کی جنگ اس معاشرے کے زمینی حقائق کی سمجھ کے مطابق لڑنا ہوگی۔ ہر مغربی تصور من وعن مستعار لے لینا کوئی عقلمندی نہیں۔ ہر تصور ہر معاشرے میں قابلِ عمل ہونا ضروری نہیں۔

اسقاطِ حمل سے متعلق ہمارے مذہب کی کچھ تعلیمات ہیں اور یہ نعرہ اگر اسقاطِ حمل ہی کے تناظر میں بھی لیا جائے تو اس مذہب اور معاشرے سے مطابقت نہیں رکھتا لہٰذا ردعمل آنا فطری بات ہے۔ مذہب یہ بھی کہتا ہے کہ ہمارا جسم اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے اور ہم اسکے ساتھ کیا کرتے ہیں اس پر اللہ کو جوابدہ ہیں لہٰذا میرا جسم میری مرضی نہیں بلکہ اللہ کے احکامات کے تابع ہے۔

انتہاء پسند لبرل حضرات نے ‘چوائس’ کا تصور بھی مغرب ہی سے مستعار لیا ہے جو کہ صریحاً مذہب سے متصادم ہے، چوائس کچھ معاملات میں تو شخصی آزادی کی تعریف میں آ جاتی ہے، ہاں انسان کو اپنی زندگی کے معاملات میں فیصلہ سازی کی مرضی حاصل ہے اور ہونی بھی چاہیے مگر معاملہ جب شرعی احکام کا آ جائے تو ایک مذہبی آئین کے تابع معاشرے میں خواتین کی لڑائی مرد یا پدر شاہی نظام سے نہیں بلکہ خود مذہب اور خدا سے ہو جاتی ہے۔

پاکستان کی عام عورت تو اپنے حقوق کی لڑائی مذہبی حدود و قیود میں رہ کر لڑنا چاہتی ہے جس کی اشد ضرورت بھی ہے مگر چند مغرب زدہ خواتین دل ہی دل میں قائل ہیں کہ یہ مذہب ہی ہے جس نے ان سے انکے حقوق چھینے ہوئے ہیں لیکن اس معاشرے کی وجہ سے کھل کر کہنے کی ہمت نہیں رکھتیں اور یہ بلواسطہ حربے اپناتی ہیں، جبکہ دل ہی دل میں یقینِ کامل رکھے ہوئے ہیں کہ خدا بھی کوئی مرد ہی ہے جس نے مرد کو ان پر سرپرست بنایا، انہیں وراثت میں مرد کے مقابلے میں آدھا حصہ دیا اور انکی گواہی کو آدھا قرار دیا ہے۔ یہ خدا کے مقرر کردہ ان قوانین کی حکمت سے یا تو آشناء نہیں یا پھر اتفاق نہیں کرتیں اور حالتِ بغاوت میں ہیں لہٰذا انکی لڑائی مرد، یا معاشرے سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔

یہ خواتین کھل کر کہہ نہیں پا رہیں کہ ہمارا ان مذہبی احکامات سے کوئی تعلق نہیں اور ہمیں چوائس کی مادر پدر آزادی چاہیے۔ مسلم ہونے کا مطلب ہی ‘میری مرضی’ اللہ کے تابع کر دینا ہے لہٰذا چوائس کی مادر پدر آزادی اور مذہبی حدود دونوں چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں۔ اس لئے ایسی خواتین جو مذہب پر بھی قائم رہنا چاہتی ہیں اور اللہ کہ ان قوانین سے بھی ناخوش ہیں دراصل ایک نفسیاتی حالت ‘کوگنیٹو ڈسونینس’ یا علمی عدم اطمینان کا شکار ہیں۔ یہ ایک ایسی حالت کا نام ہے جس میں کوئی انسان دو ایسے متضاد خیالات کے ساتھ ایک ہی وقت میں وفادار رہنا چاہتا ہو جو ایک دوسرے کی ضد ہوں اور جو ایک ساتھ جمع ہونا محال ہوں۔ ایسی خواتین اپنے اندر ہی اندر خود سے ایک نفسیاتی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ایسے میں یا تو جس خدا کو آپ مانتے ہیں اس کے قوانین پر ایمان بالغیب لے آئیں جیسا کہ مذہب کی بنیادی شرط ہے اور سر تسلیم خم کرلینا چاہیے یا پھر مذہب کی قید ہی سے جان چھڑا لینا قرینِ عقل ہے۔

  • ye maghribzada randiyan aur bharwe kitna deen e islam se waqif hain….kya maloom hai ke deeger mazahib aur muashron ne aurat ko sirg ek sex object samjha hua hai…inhain dehli bheja jai…

  • ٹیگور سے منسوب فقرہ ہے کہ میں خدا سے اس لئے محبت کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اس کو ماننے یا نہ ماننے کی آزادی دی ہے۔ پاکستانی معاشرے کی وجہ سے کھل کر کہنے کی ہمت نہیں رکھتیں تو بھی افسوس کی بات ہے۔ فخر کی بات ہرگز نہیں۔ اور خدا نیڑے یا گھسُن والی بات ہے۔استغفار


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >