سائبر کرائمز کا گڑھ ٹک ٹاک ہماری نوجوان نسل کے کچے ذہنوں کا استحصال کر رہی ہے

سائبر کرائمز کا گڑھ ٹک ٹاک ہماری نوجوان نسل کے کچے ذہنوں کا استحصال کر رہی ہے

ایک دور تھا جب پاکستان میں عوام کی رسائی صرف پی ٹی وی کی نشریات اور اخبارات کی حد تک محدود تھی۔ میڈیا کی آزادی اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ چینلز کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ چند ایک تحفظات ان چینلز پر بھی ہیں لیکن تھوڑے شور شرابے کے بعد پیمرا کو نیند سے جگایا جا سکتا ہے اور پھر ان پر سینسر شپ قوانین بھی لاگو ہوتے ہیں۔

لیکن مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوتا، آج عوام پرنٹ اور الیکٹرانک سے زیادہ ڈیجیٹل میڈیا پر انحصار کرتی ہے۔ سائنسی ترقی اور علم کی بڑھتی ہوئی طلب نے ہر ہاتھ میں موبائل فون تھما دیا ہے۔ ہر صارف کی پہنچ ہر قسم کے مواد اور نت نئی ایپلیکیشنز تک ہوتی ہے۔ایسے میں ریاست تو دور کی بات ہے، والدین کا بھی کوئی زور نہیں چلتا۔

انہی ایپلی کیشنز میں سے ایک ٹک ٹاک بھی ہے۔ تیزی سے مقبولیت حاصل کرنے والی اس ایپلیکیشن نے بنا کسی تفریق کے سب کو اپنے شکنجے میں پھنسا لیا ہے۔تفریح کی آڑ میں یہ ایپ بہت سی برائیوں کا جڑ بن چکی ہے۔

یہ ایپ نہ صرف بے حیائی پھیلا رہی ہے بلکہ دن بہ دن نئے سکینڈلز اور لیک ویڈیوز کے ساتھ سائبر کرائمز کا گڑھ بھی بنتی جا رہی ہے۔حال ہی میں 10 کے قریب ایسی اخلاق باختہ ویڈیوز منظر عام پر آئیں جو جنسی مواد پر مبنی تھیں۔ یہ لکھتے ہوئے میرا دل اور ہاتھ کانپ رہے ہیں کہ لڑکیوں کی ان لِیک ویڈیوز میں کم عمر/نابالغ بچیوں کی ویڈیوز بھی شامل ہیں۔ اس قدر اخلاقی پستی؟ ہم کس جانب طرف گامزن ہیں ؟

سننے میں آ رہا ہے کہ حکومت ٹک ٹاک کو بین کرنے کا سوچ رہی ہے اور وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ یہ معاشرے میں برائی کو پھیلانے…

Posted by Siasat.pk on Sunday, 19 July 2020

پھر جب قصور جیسے واقعات رونما ہوں تو آپ کیوں انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں؟ سائبر ایجنسیوں کی بروقت کارروائی سے یہ مواد سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر تو نہیں پھیل سکا لیکن واٹس اپ پر تیزی سے پھیلا دیا گیا۔ سوچیں، یہ نام نہاد "تفریحی” ایپ کتنی زندگیاں تباہ کرنے کا موجب بنے گی۔

علاوہ ازیں جنہیں محمد بن قاسم کے نقش قدم پر چلنا تھا، انہیں لڑکیوں کا روپ دھارے بے ہنگم ناچ گانا کرتے دیکھ کر شرم سے آنکھیں جھک جاتی ہیں۔یہ ایپ ہماری نئی نسل کے کچے ذہنوں کا استحصال کر کے ہماری ثقافت کے درپے ہے۔مزید براں صرف ویوز اور لائکس کے لئے دین کا مذاق بنانا بھی اس ایپ پر ایک ریت بن چکا ہے۔

اس ایپ کے صرف اخلاقی مضر اثرات مرتب نہیں ہوتے بلکہ ایک رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک بنانے کے جنون نے 10 پاکستانیوں کی زندگیاں بھی نگل لیں۔ خدارا ابھی بھی وقت ہے۔ اس ایپ کے پنجے سے نجات حاصل کریں۔

اس ایپ پر بین کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئی۔ پنجاب اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی رکن سیمابیہ طاہر نے ایک قرارداد جمع کروائی ہے۔

وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریوں سے واقف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کا معیار بہتر کرنے کے لیے ارتغل جیسا تاریخ ساز ڈراما نشر کروایا۔ یہ ڈرامہ نہ صرف میڈیا انڈسٹری میں صحت مند مقابلے کی فضا پیدا کرے گا بلکہ اسلامی روایات کی تجدید کا باعث بھی بنے گا۔

لیکن ارتغل کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے ٹک ٹاک جیسی بے ہودہ ایپس کو بھی بے نتھے بیل کی طرح نہیں چھوڑنا چاہیے۔ پب جی پر بین بھی ایک قابلِ تحسین عمل تھا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ٹک ٹاک بین کرنے کے حوالے سے بھی قرارداد اور درخواستوں کے علاوہ کوئی عملی اقدام اٹھائے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ "تم میں سے ہر ایک راعی ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا”۔

ہم سب پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے، لیکن سب سے بھاری ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک زمہ دار شہری ہونے کے ناطے میں حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والی، ہماری روایات کے منافی اس ایپ پر فوری ایکشن لیا جائے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >