یوم عاشور: لاہور کی نثارحویلی اور شبیہ ذوالجناح کی تاریخ

برصغیر کے دور سے ہی عزاداری، شہدا کربلا کے نقوش لاہور کی نثار حویلی میں آج بھی نمایاں ہیں۔ نثار حویلی سے عاشور کی رات نواسہ رسول ﷺ کی شہادت کا مرکزی جلوس برآمد ہوتا ہے۔

نثارحویلی دو کنال کے رقبے پر محیط ہے۔ اس کے دو حصے ہیں، جن میں ایک حصے کا نام نثار اور دوسرے حصے کا نام مبارک حویلی ہے۔ بعدازاں اسے نثارحویلی کے نام سے پکارا جانے لگا۔

دسویں محرم کا سب سے بڑا اور مرکزی جلوس نثار حویلی سے ہی برآمد ہوتا ہے جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوتا ہے۔نثار حویلی کو برصغیر میں عزاداری کے لحاظ سے بہت اہمیت حاصل ہے۔ 1858 میں نثار حویلی سے یوم عاشورہ کا پہلا جلوس برآمد ہوا۔

ذوالجناح حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے اس گھوڑے کا مشہور نام ہے جو کربلا کے واقعے کے دوران ان کے ساتھ تھا۔ ذوالجناح کے اس وقت خریدا گیا تھا جب وہ ایک بچہ تھ، اس وقت حضرت حسین ابن علی بھی بچے تھے اور ذوالجناح کو بہت پسند کرتے تھے۔

نثار حویلی کے نگران کے مطابق ذوالجناح نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی طرف آنیوالے تیروں کو ڈھال بناکر روکا اور وہ تیر گھوڑے کے جسم پر لگے وہ گھوڑے کے جسم پر پر جیسے بن گئے۔

شبیہ ذوالجناح کو مربے، دیسی گھی، کالے چنے اور مکھن کھلایا جاتا ہے۔یوم عاشور پر شبیہ ذوالجناح کو خصوصی طور پر سونے اور چاندی کے زیورات سے تیار کیا جاتا ہے۔

علامہ حسین اکبر صاحب کے مطابق ذوالجناح کا اصل نام مرتجس تھا اور یہ گھوڑا ابھی بچہ تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خریدا تھا جسے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ بہت پسند کرتے تھے۔اس گھوڑے کو اتنے تیر لگے کہ دور سے ایسا لگتا تھا جیسے پروں والا گھوڑا ہو۔

شبیہ ذوالجناح کیوں نکالی جاتی ہے اور اہل تشیع کی نظر میں اس کا کیا مقام ہے سنیئے علامہ حسین اکبر صاحب کی زبانی

شبیہ ذوالجناح کیوں نکالی جاتی ہے اور اہل تشیع کی نظر میں اس کا کیا مقام ہے سنیئے علامہ حسین اکبر صاحب کی زبانی

Posted by Lahore Rang on Friday, August 28, 2020

علامہ حسین اکبر کے مطابق ذوالجناح کا مطلب ہے پروں والا گھوڑا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >