زیارت میں برف پر بیٹھ کر امتحان دیتے بچوں کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

سوشل میڈیا پر زیارت میں برف پر بیٹھ کر امتحان دیتے بچوں کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس نے پاکستان خصوصا بلوچستان کے تعلیمی نظام کی حقیقت کھول کرعیاں کردی۔

پاکستان میں ہر نئی آنے والی حکومت تعلیمی بجٹ کو بڑھانے کا دعوی کرتی رہی ہے جس کی کم ازکم حد جی ڈی پی کا ڈھائی فیصد ہے۔ لیکن اب تک کوئی بھی حکومت تعلیمی بجٹ کو جی ڈی پی کے ڈھائی فیصد تک بڑھانے میں ناکام رہی ہے اس وقت پاکستان کا تعلیمی بجٹ تقریبا جی ڈی پی کا دو فیصد ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنی الیکشن کمپین میں تعلیم پر خصوصی توجہ کا ذکر بار بار کیا یہی وجہ ہے تعلیمی نظام میں کوئی بھی نقص سامنے آنے پر اس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ جی ڈی پی میں کمی کی وجہ سے تعلیمی بجٹ میں کچھ کٹوتیاں بھی اس حکومت کو کرنا پڑی ہیں جو کہ تحریک انصاف کےمنشور سے مطابقت نہیں رکھتا۔

سوشل میڈیا پر زیارت میں برف پر بیٹھ کر امتحان دیتے بچوں کی تصویر پر مختلف طبقات کی جانب سے دلچسپ ردعمل سامنے آیا ہے۔

کرکٹ کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے ٹوئیٹر کے ذریعے بیان جاری کیا کہ

"میں نہیں جانتا کہ مجھے ان بچوں کو دی جانے والی سزا پر سیلوٹ مارنا چاہیے یا ان مقتدر لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنانا چاہیے جو ان بچوں کو اس صورت حال میں پہنچانے کے ذمہ دار ہیں۔ یہ بچے تعلیمی میدان کے جنگجو ہیں ”

ایک اور ٹوئیٹر صارف محمد اسلم کا کہنا تھا کہ

” پاکستان کی بہتر سالہ تعلیمی کارکردگی نہایت بدقسمت اور شرمناک ہے ”

ایک اور ٹویئٹر صارف ایمل خان کاکڑ نے لکھا کہ

” وسائل سے مالا مال صوبے سے تعلق رکھنے والے بچے اس طرح برف پر بیٹھ کر سالانہ امتحان دے رہے ہیں ”

 

ہدایت خان نے اس تصویر پر کچھ یوں تبصرہ کیا کہ یہ زیارت بلوچستان ہے جہاں کا منجمند کرنے والا درجہ حرارت بھی ان ننھے بچوں کی تعلیم کی خواہش کو کم نہیں کرسکا، یہ وہی صوبہ ہے جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے مگر ہماری نئی نسل سخت سرد موسم میں ٹھٹھررہی ہے۔

یاد رہے کہ زیارت وہی علاقہ ہے جہاں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے آخری ایام بھی گزارے تھے اور تمام پاکستانیوں کی نظر میں اس جگہ کی قدر قدرے بڑھ کرہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>