پرائیویٹ اسکولوں کی جانب سے زبردستی فیس وصول کرنے کا سلسلہ جاری

کورونا وائرس کے باعث ملک میں لاک ڈاؤن کے بعد تمام سکولز اور تعلیمی ادارے بند کردیے گئے تھے، حکومت پنجاب نے ان دنوں کو موسم گرما کی چھٹیاں قرار دیکر سکولوں کو پابند کیا تھا کہ وہ 3 ماہ کی یک مشت فیس وصول نہیں کریں گے ۔
محکمہ تعلیم پنجاب نے سکولوں کو فیسوں میں 20 فیصد کمی کرنے کا حکم بھی دیا تھا جس کے بعد ہر مہینے اسکول انتظامیہ 80 فیصد فیس وصول کرنے کی پابند تھی لیکن حکومتی احکامات کو پرائیوٹ اسکولز مالکان نے یہ کہہ کر ہوا میں اڑا دیا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے کسی قسم کا نوٹس موصول نہیں ہوا محض میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیسوں میں کمی اور وصولی میں تاخیر نہیں کر سکتے۔

راولپنڈی میں واقع ایک پرائیوٹ اسکول کی انتظامیہ نے والدین کو فیس جمع کروانے پر مجبور کیا اور انہیں اسکول آنے کو کہا بصورت دیگر بچوں کو موسم گرما کی چھٹیوں کے کام کا سیلیبس نہ دینے کی دھمکی دی، والدین میں سے کسی نے اس سارے واقعے کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پرڈال دی،

ویڈیو میں بتایا گیا کہ یہ سلور اوک سکول سسٹم کی انتظامیہ نے والدین کو دھمکی دیکر اسکول بلوایا کہ اگر آپ نے بچوں کی فیس جمع نہ کروائی توبچوں کو سکول سے نکال دیا جائے ، اسکول انتظامیہ کی جانب سے پنجاب حکومت کی کورونا وائرس کے دوران 3 ماہ فیس میں 20 فیصد کمی کے حکم کو بھی ماننے سے انکار کیا جارہا ہے۔

پرائیویٹ اسکولز ملک میں ایک مافیا کا روپ دھار چکے ہیں یہ کسی بھی قانون اور حکومتی حکم کی تعمیل نہیں کرتے بلکہ الٹا یہ بچوں کے والدین پر بھاری مالی بوجھ ڈال دیتے ہیں کسی بھی اسکول کے فیس کے ڈھانچے کو ناپنے کا کوئی حکومتی نظام موجود نہیں ہے اور نہ ہی حکومت ان اسکولز مالکان سے اپنے احکامات پر عمل درآمد کروانے میں کامیاب ہوتی ہے

پنجاب میں محکمہ تعلیم کے وزیرڈاکٹر مرادراس کو روزانہ درجنوں افراد ٹویٹر پر ٹیگ کرکے ٹویٹ کرتے ہیں کہ ان کے بچوں کے اسکول زبردستی فیس وصول کررہے ہیں لیکن وزیر اور محکمہ کے کرتا دھرتا افسران کے کانوں پرجوں تک نہیں رینگتی، سکول مالکان والدین کو حکومتی آرڈر کی کاپی موصول نہ ہونے کا بہانہ گھڑتے ہیں اور انہیں بلیک میل کرتے ہیں کہ اپریل مئی اور جون کی فیس ایک ساتھ جمع کروائیں بصورت دیگر آپ کے بچے کو اسکول سے نکال دیا جائے گا۔

ویڈیو بنانے والے شخص نے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس اسکول کی انتظامیہ کے خلاف سخت ایکشن لیا جانا چاہیے آپ نے نئے پاکستان کا وعدہ کیا تھا نئے پاکستان میں کوئی مافیا عوام کو لوٹ نہیں سکے گا اس اسکول کے خلاف ایکشن لیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے، اسکول انتظامیہ نے ایک اور کوتاہی کرتے ہوئے تمام والدین کو ایک دن ہی اسکول طلب کرلیا جس سے اسکول میں رش لگ گیا اور کورونا وائرس سے بچاؤ کی تمام تر احتیاطی تدابیر اورسماجی فاصلے کے احکامات ہوا میں اڑاد یئے جس سے درجنوں افراد میں کورونا وائرس منتقل ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا

  • میری رائے میں ان حالات میں اسکولز کا فیس لینا بالکل نا قابل قبول ہے، کیونکہ اسکولز کی فیس ان کی سروسز کے مقابلے میں ادا کی جاتی ہیں، اور جب ان کی سروسز ہی معطل ہو چکی تو فیس کا بات کی؟
    پھر ان اسکولز میں پڑھانے والے والدین کی ایک بڑی تعداد وہ ہے جو خود کورنا کی وجہ سے معاشی مسائل کا شکار ہو گی اور ان کے کام کاروبار بند ہونے کی وجہ سے آمدن کے ذرائع ختم ہو چکے ہوں گے، جس وجہ سے وہ بمشکل اپنی کھانے پینے کی ضروریات کو پورا کر رہے ہوں گے، ایسی صورت میں ایک اس طرح کی چیز کا بوجھ ان پر ڈالنا جس سے وہ فی الحال مستفید بھی نہیں ہو رہے، کہاں کا انصاف ہے؟

  • اسکولز والوں کا یہ کہنا کہ اگر ہم فیس وصول نہ کریں تو اساتذہ کی تنخواہیں کیسے ادا کریں؟
    اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اسکولز کتنے سالوں بلکہ دہائیوں سے من مانی فیس لے کر اس قوم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں، اب جبکہ پوری قوم پر ایک ناگہانی آفت ٹوٹ پڑی ہے تو کیا یہ ان کا قومی فریضہ نہیں کہ مشکل کی اس گھڑی میں یہ کاروباری اسکولز اپنے کسٹمرز اور اس قوم پر کچھ رحم کریں اور جب تک اسکولزمیں تعلیم کا آغاز نہیں ہوتا تب تک فیس نہ لیں؟
    اساتذہ کوتنخواہیں اپنی جیب سے ادا کریں، یا کم سے کم بوجھ والدین پر ڈالیں، مثلاً صرف تنخواہوں کیمد میں فیس کا کچھ حصہ وصول کریں، جو غالباً کل فیس کا 20٪ ہو گا، الٹا یہ وہی 20 فی صد معاف کرنے کو تیار نہیں

  • ایک اور بات… یہ جو کہا جا رہا ہے کہ یہ مہینے گرمیوں کی چھٹیوں کے شمار کر لیے جائیں گے اور اسی لیے سَمر ورک دیا جا رہا ہے اور یہ فیس اسی مَد میں ہو گی یہ بات بھی بالکل عقل اور لاجک کے خلاف ہے؛ کیونکہ گرمیوں کی چھٹیوں سے پہلے بچے نصاب کا کافی حصہ پڑھ چکے ہوتے ہیں، اور اسی حصہ کی دھرائی گرمیوں کی چھٹیوں میں کی جاتی ہے، زیادہ سے زیادہ 10 فی صد نیا اور اضافی کام کرنے کو دیا جاتا ہے، مگر یہاں توصورت حال یہ ہے کہ ہمارے بچوں کو اسکولز جاتے ابھی کچھ ہی دن ہوئے تھے، بہت سی کتابیں ابھی انہوں نے پڑھنا بھی شروع نہیں کیں تھیں اور لاک
    ڈاؤن شروع ہو گیا، ایسی صورت میں اکثر ماں باپ کو تو معلوم ہی نہیں کہ کیا پڑھانا ہے اور کس انداز میں پڑھانا ہے. والدین کی ایک تعداد خود بچوں کو پڑھانے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی، کچھ والدین تو ان پڑھ بھی ہوں گے، وہ سب کیا کریں گے؟! اور اگر کوئی سب کچھ خود کروا بھی لے تو وہ اسکول کو کس سروس کے عوض فیس ادا کرے؟ نہ بچہ اسکول گیا، نہ اس کی عمارت استعمال ہوئی، نہ کسی استاد سے کچھ پڑھا… کچھ بھی تو نہیں ہوا، آخر کس چیز کی فیس؟

    حکومت وقت سے ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے پہلے سے معاشی طور پر پسی ہوئی عوام پر رحم کرتے ہوئے اس معاملہ کی سنگینی کو دیکھے اور ان کاروباری اسکولز کو اس ظلم اور زیادتی سے روکے.
    سپریم کورٹ سے بھی التجا ہے کہ یہ وہ کام ہے جس پر سووموٹو نوٹس لیا جانا چاہیے، یہ اصل عوامی مفاد کا کام ہے، جناب اس طرف توجہ فرمائیے.

  • آخری بات! پہلے بھی جب اسکولز کی فیسوں کا معاملہ سپریم کورٹ میں گیا تب بھی صرف ان اسکولز کی فیسوں میں کمی کا حکم جاری ہوا جن کی فیس 5 ہزار یا زائد تھی اب بھی ایک نوٹیفکیشن نظر سے گزرا جس میں فیسوں میں کی گئی 20 فی صد کمی کا اطلاق صرف ان اسکولز پر کیا گیا جن کی فیس 5 ہزار یا زائد ہے. جبکہ فیسوں کی اس چکی میں پسنے والے سب سے بڑے طبقے کا تعلق ان اسکولز سے ہے جن کی فیس 3 سے 5 ہزار تک ہے، یہ اسکولز ماہانہ فیس، سالانہ چارجز، اسٹیشنری چارجز اور امتحانی فیس وغیرہ کے نام پر بھی بہت کچھ بٹورتے ہیں. اور انہیں اسکولز میں مڈل طبقے کہ اکثریت پڑتی ہے، اور مڈل طبقہ ہی پر ان کے اخرجات میں سب سے بڑا بوجھ ان اسکولز کی فیسوں کا ہے. خود اندازہ کیجیے جس کسی کے صرف 2 یا 3 بچے ہی ہوں اس کی فیس کا بوجھ بھی 10 سے 15 ہزار ماہانہ بن جاتا ہے پھر کاپیاں کتابیں، یونیفارم، ٹرانسپورٹ اور روزانہ کے تھوڑے بہت جیب خرچ الگ ہیں

    اگر کوئی میرا یہ درد اور پیغام ارباب اقتدار تک پہنچا سکے تو ضرور پہنچائے اور اس بات کو ضرور ملحوظ رکھے کہ کسی بھی قسم کی ریلیف کا سب سے زیادہ حق دار یہی طبقہ ہے جو 5 ہزار سے کم فیسوں والے اسکولز میں زیر تعلیم ہے، نہ کہ وہ امراء اور اشرافیہ جو ہزاروں میں فیس دیتے ہیں اور دینے کی سکت بھی ان میں ہے، لہذا اس پہلے سے مراعات یافتہ طبقہ کو مزید مراعات دینے کی بجائے ان غریبوں کا کچھ سوچیں اور کچھ کریں، بہت شکریہ


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >