سوشل میڈیا پر طلباء کا امتحانات بارے شدید اعتراضات،مطالبات جائزہیں یانہیں؟

پاکستان میں آئے روز کرونا کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں جس کے باعث عوامی اجتماعات پر پابندی کے ساتھ ساتھ تعلیمی ادارے بند کر کے آن لائن تعلیم دی جا رہی ہے ۔ اسی دوران طلباء کی جانب بائیکاٹ امتحان اور نو ووٹ فار پی ٹی آئی کا ٹرینڈ بھی سوشل میڈیا پر نظر آیا ۔

کیا طلباء کا یہ مطالبہ ہے کہ پچھلے سال کی طرح اس دفعہ بھی بغیر امتحان کے پاس کردیا جائے؟ طلباء کو امتحانات پراتنا اعتراض کیوں ہے؟

اس سے پہلے جب کرونا کی وجہ سے چھٹیوں کا اعلان کیا گیا تو طلباء نے مختلف میمز کے ذریعے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ لیکن اس بار جب وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے یہ بات واضح کی کہ ہم پچھلی بار کی طرح طالب علموں کو اگلی جماعت میں پروموٹ نہیں کریں گے تو طلباءغصے میں نظر آئے۔ کیا یہ فیصلہ ٹھیک ہے؟حکومتی پالیسیز میں اتنی کنفیوژن کیوں؟

کچھ پاکستانی طلباء نے حکومت کی تعلیمی پالیسیز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہماری آن لائن کلاسز باقائدگی سے نہیں ہوئیں ۔ تعلیمی ادارے بار بار کھلنے اور بند ہونے کی وجہ سے سلیبس کور نہیں ہو سکا ۔ اس کے علاوہ بہت سے طالب علم انٹر نیٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے آن لائن کلاسزبھی نہ لے سکے ۔ کیاحکومت ان تمام اعتراضات کو ماننے کے لیے تیار ہے؟

امتحانی مراکز میں عام طور پر سہولیات کا فقدان دیکھا جاتا ہے، ایسے میں کرونا SPO’s کو حکومت کیسے یقینی بنائے گی؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت آنے والے دنوں میں کیا مربوط حکمت عملی اپناتی ہے؟ آیا امتحانات منسوخ کیے جائیں گے یا پھر سلیبس کو کم کیا جائے گا؟


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >