یکساں قومی نصاب کی نئی درسی کتابوں کے سرورق پر مخصوص طبقے کے اعتراضات

یکساں قومی نصاب کی نئی درسی کتابوں کے سرورق پر مخصوص پاکستانی طبقے کو اعتراض

وفاقی حکومت کی جانب سے یکساں قومی نصاب یعنی سنگل نیشنل کریکولم (ایس این اسی) کے تحت شائع ہونے والی پانچویں جماعت کی انگریزی کی کتاب پر پاکستان نے ایک مخصوص طبقے نے شدید اعتراض اٹھایا ہے۔

کتاب کی اس تصویر میں باپ اور بیٹا قمیض پتلون پہنے ہوئے صوفے پر براجمان کتاب کے مطالعے میں مصروف ہیں جبکہ ماں اور بیٹی کو حجاب پہنے ان کے سامنے زمین پر بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔ایسی ہی مزید کتابیں متعارف کرائی گئی ہیں جن میں جہاں خواتین اور بچیوں کو حجاب میں دکھایا گیا ہے۔

جبکہ مردوں اور بچوں کے لباس موقع کی مناسبت سے پیش کیے گئے ہیں جیسے کہیں پر وہ مغربی لباس پہنے ہوئے ہیں اور کہیں وہ روایتی شلوار قمیض یا اپنا پیشہ وارانہ لباس پہنے ہوئے ہیں۔

اس پر مخصوص طبقے نے اعتراض اٹھایا ہے کہ سنگل نیشنل کریکولم کی کتابوں میں خواتین اور طالبات کو حجاب میں کیوں دکھایا گیا ہے۔ ان کا اعتراض ہے کہ ایک لڑکی اپنے بہن بھائیوں اور والدین کے ساتھ حجاب پہن کر کیوں بیٹھے گی؟

عاصمہ جہانگیر کی صاحبزادی منیزے جہانگیر نے کتاب پر اعتراض اٹھایا کہ سنگل نیشنل کریکولم کے دوہرے معیارات ہیں: خواتین کو فرش پر حجاب کے ساتھ دکھایا گیا ہے ، مرد جدید صوفے پر بیٹھے مغربی لباس زیب تن کرتے ہیں۔

منیزے جہانگیر کا مزید کہنا تھا کہ عجیب بات یہ ہے کہ خواتین کو یہ بتانے والے کہ کونسی ثقافت پر عمل کرنا ہے وہ غافل نظر آتے ہیں کہ مرد واضح طور پر مغربی ثقافت کی پیروی کر رہے ہیں۔

اس کتاب پر معروف تجزیہ کار بے نظیر شاہ نے بھی اعتراض اٹھایا اور کہا کہ انگلش کی پانچویں جماعت کی کتاب میں یہ بتایا گیا ہے کہ میرا باپ روزانہ اخبار پڑھتا ہے جبکہ میری ماں کپڑے دھوتی ہیں۔

بے نظیر شاہ کا کہنا تھا کہ یہ کتابیں خواتین سے متعلق کیا پیغام دے رہی ہیں؟ایک ماہرتعلیم سوال کررہے ہیں کہ بچی اپنے والدین کیساتھ حجاب پہن کر کیوں بیٹھی ہے؟

پیپلزپارٹی کی رہنما جہاں آراء وٹو کا کہنا تھا کہ ان کتابوں میں سب کچھ غلط ہے۔ عورتیں فرش پر بیٹھی ہیں جبکہ مرد صوفے پر بیٹھے ہیں جبکہ بچی اور عورت کو حجاب میں دکھایا گیا ہے۔

جہاں آراء نے مزید اعتراض اٹھایا کہ فاطمہ جناح کو اپنے کیریئر کو اپنے بھائی کے لیے قربان کرنا دکھانا سراسر غلط سوچ ہے ۔ اسی سوچ کے خلا تو خواتین لڑرہی ہیں۔

ڈاکٹر عائشہ نوید نے کتاب کی تصویر شئیر کرتے ہوئے سوال کیا کہ اتنی چھوٹی سی بچی کو حجاب پہنانے کا مطلب ؟

ان افراد نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ یکساں نصاب کی تیسری جماعت کی اردو کی کتاب میں گرامر کی ایک مشق دی گئی ہے جس میں ایک جملہ کچھ یوں ہے کہ ’عائشہ نے نماز پڑھی‘ جبکہ اس سے اگلا جملہ ہے کہ ’لڑکوں نے فٹ بال کھیلا۔‘

  • انہیں پیسے ہی اس کام کے ملتے ہیں
    یہ لوگ پاکستان میں انتہائی کم ہیں
    Represent یہ ہمیں
    نہیں کرتے
    انہیں عورت وہ اچھی لگتی ہیں جو
    اپنے گھر کے کپڑے نہ دھوے
    لیکن باقی لوگوں کے دھوے

  • These pseudo liberals have come up with babyish objections, most of the girls and mothers are in hijab in Pakistan!!this is representing Pakistan!! They are reading books !! In Pakistan the areas that have highest girl child literacy rate are mostly where women are quite conservative!

  • جس کنجر نے یہ تصویر بنای کہ بیٹا اورباپ صوفے پر جبکہ ماں اور بیٹی زمین پر بیٹھی ہیں اس کو لتر مارنے چاہیئں اگر ماں بیٹی بھی صوفہ پر دکھا دیتا تو کیا اس کی ماں اس کو حرامی قرار دے دیتی؟

  • By the way as a Muslim we should cover our head.jin ko hijab lene ki adat hoti hai who ghar aur bahir le kr he rakhaty hain.jaisay k humari family main yeah amm baat hai.
    Nee hay bethne mein bhi koi qabahat nahi coz being a mother carpet pr beth k bachon k sath khailna study krna easy feel hota.
    Boys mostly prefer krtay k woh chair ya sofa pr bethein apna apna comfort zone hota fazooool ki objections


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >