یکساں قومی نصاب پر مخصوص طبقے کے اعتراضات کا تفصیلی جواب

وفاقی حکومت کی جانب سے یکساں قومی نصاب یعنی سنگل نیشنل کریکولم (ایس این اسی) کے تحت شائع ہونے والی پانچویں جماعت کی انگریزی کی کتاب پر پاکستان نے ایک مخصوص طبقے نے شدید اعتراض اٹھایا ہے۔

کتاب کی اس تصویر میں باپ اور بیٹا قمیض پتلون پہنے ہوئے صوفے پر براجمان کتاب کے مطالعے میں مصروف ہیں جبکہ ماں اور بیٹی کو حجاب پہنے ان کے سامنے زمین پر بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔ایسی ہی مزید کتابیں متعارف کرائی گئی ہیں جن میں جہاں خواتین اور بچیوں کو حجاب میں دکھایا گیا ہے۔

جبکہ مردوں اور بچوں کے لباس موقع کی مناسبت سے پیش کیے گئے ہیں جیسے کہیں پر وہ مغربی لباس پہنے ہوئے ہیں اور کہیں وہ روایتی شلوار قمیض یا اپنا پیشہ وارانہ لباس پہنے ہوئے ہیں۔

اس پر مخصوص طبقے نے اعتراض اٹھایا ہے کہ سنگل نیشنل کریکولم کی کتابوں میں خواتین اور طالبات کو حجاب میں کیوں دکھایا گیا ہے۔ ان کا اعتراض ہے کہ ایک لڑکی اپنے بہن بھائیوں اور والدین کے ساتھ حجاب پہن کر کیوں بیٹھے گی؟

ان اعتراضات کا جواب مختلف سوشل میڈیا صارفین نے دیا ہے جن میں عمر اور وزیراعلیٰ پنجاب کے فوکل پرسن اظہر مشوانی پیش پیش ہیں۔

عمر نامی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ نے اس پر تفصیلی تبصرہ کیا اور کہا کہ میں نے گریڈ 1-5 کی یہ کتابیں یہ جاننے کے لیے خریدی ہیں کہ کیا پنجاب حکومت کی منظور شدہ نصابی کتابیں رجعت پسند ہیں اور کیا یہ بچوں کی تعلیم کے لیے نقصان دہ تو نہیں ؟ان 10 کتابوں کی قیمت مجھے 900 روپے پڑی ہے۔

عمر کا کہنا تھا کہ ان درسی کتابوں میں ، لڑکوں اور لڑکیوں کو سکھایا جاتا ہے کہ وہ اجنبیوں سے کوئی تحفہ قبول نہ کریں اور ان سے کبھی دوستی نہ کریں۔ توقع کی جاتی ہے کہ یہ اسباق بچوں کے خلاف جرائم کو کم کرنے میں مدد کریں گے خاص طور پر جنسی جرائم کرنیوالے ،جو مختلف ہتھکنڈوں سے بچوں کو اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے آمادہ کرتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کتابوں میں ایسے اسباق بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ بچے سیکھیں اور پاکستان میں اقلیتوں کے مذہبی تہواروں کا احترام کریں۔ کتاب کے شئیر کردہ سکرین شاٹس میں کرسمس، ہندوؤں کے مذہبی تہوار ہولی، سکھوں کے مذہبی تہوار بیساکھی سے متعلق بھی مضامین شامل کئے گئے ہیں۔

عمر کے مطابق پروپیگنڈا کیا گیا ہے کہ لڑکیوں کوصرف گھر کا کام کرتے ہوئے یا ماؤں یا گھریلو خواتین کے طور پر دکھایا گیا ہے ، ان کتابوں میں عورتوں کو بطورپائلٹس، وکلاء،کاروباری خواتین،نرس، ڈاکٹر، کھلاڑی خواتین بھی دکھایا گیا ہے۔

اسکے علاوہ لڑکیوں کو فٹ بال کھیلتے، کھیلوں کی سرگرمیوں میں لڑکوں کے ساتھ مقابلہ کرنا۔ اپنے خاندان کے مردوں کے ساتھ کام میں ہاتھ بٹاتے دکھایا گیا ہے جیسا کہ خواتین دیہی علاقوں میں کرتی ہیں۔اسکے علاوہ ایک عام انسان کی طرح بارش سے لطف اندوز ہوتے دکھایا گیا ہے۔

عمر کا مزید کہنا تھا کہ گریڈ 4 کی سوشل سٹڈیز کی کتاب میں بچوں کو اس بارے میں پڑھایا جائے گا، ان میں ہیومین رائٹس، تنوع اور رواداری، مختلف ثقافتیں (پنجاب کی کتابیں دوسرے صوبوں کی ثقافتیں بھی سکھا رہی ہیں)، پاکستان کی تشکیل میں اقلیتوں کا کردار شامل ہے۔

گریڈ 3 کی واقفیت عامہ (جنرل نالج) کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے عمر کا کہنا تھا کہ میری نظر میں یہ بہترین حصہ ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ عمومی اختلاف رائے، ، اختلاف رائے کی وجوہات ، تنازعات کو بحث و مباحثے ، مکالمے اور مسائل حل کرنے کے طریقوں کے ذریعے حل کیا جائے۔

کتاب میں موجود چھوٹی عمر کی بچیوں کی حجاب کے ساتھ تصاویر پر تبصرہ کرتے ہوئے عمر نے کہا کہ اگرچہ "تمام یا اکثریت” نابالغ لڑکیوں کو درسی کتابوں میں اسکارف/دوپٹہ پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے لیکن کتابوں میں ایسی تصاویر بھی ہیں جہاں کچھ نے سکارف پہنا ہوا ہے اور کچھ نے نہیں۔

عمر کا مزید کہنا تھا کہ ہاں نابالغ بچیوں کو حجاب پہننے کی ضرورت نہیں ہے لیکن ہمارے ملک میں وہ بچیاں بھی ہیں۔ جو یہی علاقوں میں رہتی ہیں اور ثقافتی/مذہبی اصولوں کی وجہ سے اسکارف یا دوپٹہ پہنتی ہیں۔میں بھی ایک گاؤں سے ہوں جہاں چھوٹی لڑکیاں ثقافتی روایات کے طور پر دوپٹہ یا سکارف پہنتی ہیں۔

عمر نے انگریزی اور اردو کتابوں میں مذہبی مواد پر اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ جی ہاں ، پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے اسے شامل کیا لیکن میرے خیال میں یہ نہ تو متنازعہ ہے اور نہ ہی فرقہ وارانہ۔پہلی تصویر چیک کریں اور سیکھنے کے نتائج پڑھیں ، وہ مذہبی موضوعات پر توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ یہ ایک انگریزی کتاب سے ہے۔

گریڈ 2 کی جنرل جنرل نالج کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے عمر نے لکھا کہ آگاہی کے اسباق وقت کی ضرورت ہیں اور موجودہ سماجی اور آب و ہوا کے مسائل سے متعلق ہیں یعنی پانی کی کمی اور جنگلات کی کٹائی کے مسائل۔

عمر کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ یکساں قومی نصاب پرفیکٹ ہے ، اس میں کچھ خامیاں بھی ہیں لیکن یکساں قومی نصاب کی ایک اچھی کوشش ہے اور قوم کی تعمیر میں بہت زیادہ انتظار اور تاخیر سے شروع ہوئی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب کے فوکل پرسن اظہر مشوانی نے سنگل نیشنل کریکولم SNC کے تحت بنائی گئی کتابوں پر اعتراضات کے جواب دیتے ہوئے لکھا کہ سنگل نیشنل کریکولم (یکساں قومی نصاب) دراصل صرف “نصاب” ہے جس کے دائرہ کار کے تحت کوئی بھی پبلشر “ٹیکسٹ بک بورڈ” کی منظوری کے بعد اپنی کتاب چھاپ سکتا ہے۔شائع شدہ کتابیں متعلقہ پبلشر کی ہوتی ہیں اس پر SNC کو ٹارگٹ کرنا بیوقوفی ہے

سرکاری پبلشر کی شائع شدہ کتابوں پراعتراضات کا جواب دیتے ہوئے اظہر مشوانی کا کہنا تھا کہ ایک کتاب کو پکڑ کر کہا جا رہا کہ بچیاں زمین پر بیٹھی ہیں اور لڑکےاوپر — حالانکہ ایک اور کتاب میں خاتون اور بچی اوپر بیٹھی ہیں بچہ نیچے ، بچیوں کی سکارف والی تصویر پر اعتراض لیکن ان کتابوں میں بغیر سکارف والی تصاویر بھی درجنوں میں موجود ہیں۔


اظہر مشوانی کے مطابق تو ثابت یہ ہوتا ہےکہ یہ اعتراضات یکساں نصاب یعنی سنگل نیشنل کریکولم (SNC) پر نہیں کیونکہ SNC سے ان باتوں کا لینادینا ہی نہیں کتابوں پر اعتراض پبلشرز پر بنتےہیں ناکہ SNC پر لیکن ایک مخصوص مذہب بیزار / پاکستانی کلچر سے نآشنا طبقہ صرف اپنی مرضی کےصفحات اٹھا کر پراپیگنڈا کر رہا ہے

  • The objecting class is actually
    Women and girls in distress and equally
    Elimination of crime due to curriculum
    Fears that if the humane race grows in society, these liberals will stop selling
    This is the real problem

    Omar Bhai Allah Pak reward you in the best way
    On answering


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >