وزارت آئی ٹی نے اربوں روپے کےبراڈ بینڈ،آپٹیکل فائبر کے9منصوبوں کی منظوری دے دی

وزارت آئی ٹی نے اربوں روپے کےبراڈ بینڈ،آپٹیکل فائبر کے9منصوبوں کی منظوری دے دی

یونیورسل سروس فنڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی تکمیل کیلئےچاروں صوبوں میں  براڈ بینڈ سروسز کی فراہمی اور آپٹیکل فائبر کیبل بچھانے کے مزید  9 مختلف منصوبوں کی منظوری دیدی۔

ان منصوبوں پر مجموعی لاگت کا تخمینہ  8 ارب  15 کروڑ 95 لاکھ روپے  لگایا گیا ہے۔جس سے  تقریبا 40 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقوں میں رہنے والے 75 لاکھ سے زائد افراد کو سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔

ملک  میں سیاحت کے فروغ کیلئے ، شاہراہ قراقرم، بابوسر ٹاپ، جھیل سیف الملوک، گلیات، سوات اور شمالی علاقہ جات کے اہم مقامات پر بلاتعطل موبائل فون سروسز اور  تیز ترین انٹرنیٹ کی فراہمی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر منصوبے شروع کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔جس سے نہ صرف  ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی ہوگی بلکہ ہنگامی صورتحال میں  متعلقہ اداروں کو بروقت اور تیز ترین ریسپانس   کرنے میں بھی آسانی ہوسکے گی۔

یونیورسل سروس فنڈ بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس جمعہ کو سیکریٹری آئی ٹی  و چیئرمین بورڈ  شعیب احمد صدیقی کی صدارت میں منعقد ہوا ، جس میں ممبر ٹیلی کمیونیکشن   محمد عمر ملک، چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل ریٹائرڈ عامر عظیم باجوہ ،   نیشنل آئی ٹی بورڈ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر شباہت علی شاہ ، ٹیلی نار کے چیف ایگزیکٹیو عرفان  وہاب خان، عمران اختر  شاہ اور کوکب اقبال نے بطور بورڈ ممبرز شرکت کی، اس موقع پر یونیورسل سروس فنڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر حارث محمود چوہدری نے بورڈ کو منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس سے اپنے خطاب میں  سیکریٹری آئی ٹی و چیئرمین  بورڈ شعیب احمد صدیقی نے کہا کہ ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی تکمیل اسی صورت ممکن ہے جب ملک کے طُول و عرض میں موبائل فون رابطوں اور انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس ضمن میں وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق کی واضح ہدایات ہیں کہ دُور دراز اور عدم سہولیات کے حامل علاقوں  کیلئے نہ صرف مؤثرمنصوبے بنائے جائیں بلکہ ان کی بروقت تکمیل بھی  یقینی بنائی جائے۔

شعیب صدیقی نے کہا کہ وفاقی وزیر آئی ٹی نے یونیورسل سروس فنڈ کی کارکردگی پر نہایت اطمینان کا اظہار کیا ہے جس نے موجودہ حکومت کے 31 ماہ میں اب تک مجموعی طور پر 30 ارب روپے سے زائد کے منصوبے پیش کیئے ہیں۔اور اپنے ان منصوبوں میں  سابقہ قبائلی علاقہ جات، بلوچستان، سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے سہولیات سے محروم علاقوں کو بلاامتیاز شامل کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وفاقی وزیر کا عزم ہے کہ ملک کا کوئی حصہ ڈیجیٹلائزیشن کے اس عمل میں پیچھے نہ رہ جائے، یو ایس ایف کے  درجنوں منصوبے اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

سیکریٹری آئی ٹی شعیب صدیقی  نے بتایا کہ وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق  کی ہدایت پر بورڈ آف ڈائریکٹرز نے خصوصی طور پر پاکستان کے اہم سیاحتی مقامات پر موبائل فون رابطوں اور انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی کے  ہنگامی منصوبے شروع کرنے کی منظوری دی ہے جن کی تکمیل سے نہ صرف وزیر اعظم پاکستان کے سیاحت کے فروغ کے عزم کو تقویت ملے گی بلکہ مقامی، غیر ملکی سیاحوں اور متعلقہ آبادیوں کو بھی سہولیات کی فراہمی سے  اپنے کاروبار  کو وسعت دینے میں مدد ملے گی۔انھوں نے یو ایس ایف کو ہدایت کی کہ  زیر تکمیل اور مجوزہ منصوبوں کی تفصیلات کیلئے عوامی آگاہی  کا اہتمام بھی کیا جائے۔

یونیورسل سروس فنڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر حارث محمود چوہدری نے منصوبوں کے حوالے سے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ سیاحتی مقامات پر براڈ بینڈ سروسز کی فراہمی کیلئے بابو سر ٹاپ، جھیل سیف الملوک، گلیات ، وادی کمراٹ ، ماہوڈنڈ جھیل سوات، سمیت شمالی علاقہ جات کے اہم مقامات کو ترجیح دی گئی ہے ۔

اسی طرح   پنجاب کے اضلاع راجن پور، ڈیرہ غازی خان  اور مظفر گڑھ میں فائبر آپٹیکل کے تین مختلف منصوبوں  پر  4 ارب 47 کروڑ روپے خرچ کیئے جائیں گے۔ 16 سو  32 کلومیٹر طویل اس فائبر آپٹیکل سے  ان اضلاع کی 50 لاکھ کی آبادی کو سہولیات کی فراہمی ممکن ہوسکے گی۔

اجلاس کو  بتایا   گیاکہ   ” نیکسٹ جنریشن  براڈ بینڈ سروسز پروگرام” کے تحت سندھ کے اضلاع شکار پور، جیکب  آباد اور کشمور ، پنجاب کے اضلاع ملتان اور خانیوال، بلوچستان میں پنجگور،  پشین، قلعہ عبداللہ اور کوئٹہ  جبکہ خیبرپختونخواہ میں  سوات، صوابی، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ   کیلئے 6 مختلف منصوبوں پر  مجموعی طور پر  3 ارب  68 کروڑ 95 لاکھ روپے سے زائد  کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس سے 37 ہزار 703 مربع کلومیٹر کے علاقوں  میں رہنے والے  26 لاکھ سے زائد افراد کو براڈ بینڈ سروسز کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے گی۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>