گوگل پلے سٹور کے خلاف چینی کمپنیوں کا الائنس

Chinese Smartphone Companies

رپورٹ کے مطابق یہ چینی کمپنیاں مختلف خطوں میں بہت مضبوط ہیں جیسے شیاؤمی بھارت میں یا ہواوے یورپ میں، اسی طرح مختلف چینی کمپنیاں پاکستان میں بھی مختلف سمارٹ فونز کے ماڈلز متعارف کراتی رہتی ہیں ۔

غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ہواوے، شیاؤمی، اوپو اور ویوو جیسی بڑی اسمارٹ فونز بنانے والی کمپنیوں نے گلوبل ڈویلپر سروس الائنس بنالیا، جو ایک پلیٹ فارم پر کام کررہی ہیں ۔ یہ کمپنیاں چین سے باہر موجود ڈویلپرز کو اپنی ایپس بیک وقت ان کمپنیوں کے ایپ اسٹورز میں اپ لوڈ کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔

چین میں گوگل پلے اسٹور پر پابندی عائد ہے اور وہاں کے اینڈرائیڈ صارفین مختلف ایپ اسٹورز سے ایپس کو ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں مگر چین سے باہر گوگل پلے اسٹور کی بالادستی قائم ہے، جو ڈویلپرز کو اپنے سافٹ وئیر اپ لوڈ کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، اس اجارہ داری کو ختم کرنے کیلئے اب چینی سمارٹ کمپنیوں کے الائنس جی ڈی ایس اے کے پلیٹ فارم سے چیلنج کیا جارہا ہے۔

جی ڈی ایس اے اپنی سروسز 9 ممالک اور خطوں میں متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں بھارت، انڈونیشیا، روس اور ملائیشیا شامل ہیں۔

چینی کمپنیوں کا یہ نیا پلیٹ فارم مارچ میں متعارف کرائے جانے کا منصوبہ ہے مگر چین میں آج کل کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے اس میں تاخیر بھی ہوسکتی ہے۔ یہ نیا پلیٹ فارم ڈویلپرز کے لیے اپنی ایپس تمام اسٹورز میں بیک وقت اپ لوڈ کرنا آسان بنائے گا۔

رپورٹ کے مطابق یہ چینی کمپنیاں مختلف خطوں میں بہت مضبوط ہیں جیسے شیاؤمی بھارت میں یا ہواوے یورپ میں، اسی طرح مختلف چینی کمپنیاں پاکستان میں بھی مختلف سمارٹ فونز کے ماڈلز متعارف کراتی رہتی ہیں ۔

گزشتہ سال کی آخری سہ ماہی کے دوران ان کمپنیوں نے دنیا بھر میں 40 فیصد اسمارٹ فونز فروخت کیے تھے۔

گوگل پلے اسٹور کی عالمی سطح پر بالادستی ہواوے کے لیے زیادہ بڑا مسئلہ ہے جو گزشتہ سال امریکی پابندیوں کے نتیجے میں گوگل ایپس اور سروسز بشمول پلے اسٹور کے لائسنس سے محروم ہوگئی۔

اس مسئلے کی وجہ سے ہواوے نے اپنے فلیگ شپ فون میٹ 30 کو عالمی سطح پر فروخت کے لیے پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ اس نے اپنے آپریٹنگ سسٹم ہارمونی او ایس پر کام کرنے کا اعلان بھی کیا اور گوگل سروسز کے متبادل کے طور پر ہواوے موبائل سروسز کے قیام کے لیے ایک ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ہواوے کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر بلیک لسٹ کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اس کے آلات جاسوسی کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں، چینی کمپنی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

خیال رہے کہ گوگل اپنے پلے اسٹور گوگل سے اچھی خاصی آمدن حاصل کرتا ہے، گزشتہ سال گوگل نے پلے سٹور سے دنیا بھر سے 8.8 ارب ڈالرز کمائے۔


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

>