سائبرکرائم کا معاملہ سنگین، ہیکرز کے صارفین کیساتھ ساڑھے تین ارب ڈالرز کے فراڈ

Ransomware

دنیا بھر میں سائبر کرائم کا معاملہ سنگین ہوگیا۔۔ ایف بی آئی کے مطابق سائبر کرائم کے ذریعے صارفین ساڑھے تین ارب ڈالرز کا نقصان اٹھا چکے ہیں۔

غیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق دنیا بھر میں سائبر کرائم سے فراڈ، جعلسازی کا معاملہ سنگین ہوگیا ہے۔

امریکی خفیہ ادارے ایف بی آئی کے انٹرنیٹ کرائم کمپلینٹ سینٹر(IC3) کواب تک 4 لاکھ 67ہزار361شکایات موصول ہوچکی ہیں جب کہ صرف گزشتہ ایک سال میں ان شکایات کی تعداد 13 ہزار 633 رہی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ پر جعل سازی کرنے والوں کی مہارت میں اضافہ اور اصل و نقل کے مابین فرق کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

گزشتہ برس ایف بی آئی کے کمپلینٹ سیل کو 48ممالک سے شکایات موصول ہوئیں ، جن میں سے اکثریت کی عمر ساٹھ برس سے زائد تھی۔ مجموعی طور پر2019میں 5کروڑ40لاکھ ڈالر جعلسازی اور فراڈ کے ذریعے ہتھیائے گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہے کہ ہیکرز کریڈٹ کارڈز، بنک اکاؤنٹس ہیک کرکے اور مختلف طریقوں سے فراڈ کرکے صارفین کی جیبوں سے پیسہ نکال رہے تھے لیکن اب "رینسم وئیر” کے ذریعے بھی صارفین کی جیبیں خالی کی جارہی ہیں۔

رینسم وئیر سے مراد ہیکر کسی کمپیوٹر کو لاک کرکے دوبارہ قابل استعمال بنانے کے لیے تاوان طلب کرتے ہیں، ہیکرز رئنسم وئیرز کے ذریعے فائلز کی ایکسٹنشن تبدیل کردیتے ہیں اور صارف فائل کھولنے یا استعمال کے قابل نہیں رہتا۔ ایسی کارروائیوں کو ’’رینسم ویئر‘‘ کہا جاتا ہے۔

رینسم وئیر کے ذریعے ہیکرز نے ایک سال میں تقریباً 9 لاکھ ڈالر کا تاوان حاصل کیا۔رینسم وئیر کچھ ناقابل اعتبار سافٹ وئیر میں شامل کردیا جاتا ہے جسکے انسٹال کرتے ہی یہ کمپیوٹر میں داخل ہوجاتا ہے اور کمپیوٹر لاک یا فائل سسٹم تبدیل کردیتا ہے اور صارف اس وقت تک انہیں استعمال نہیں کرسکتا جب تک وہ تاوان نہ دے ۔سافٹ وئیر زیادہ تر ٹورنٹس پر ہوتے ہیں۔

ایف بی آئی کو موصول ہونے والی شکایات کے مطابق اب تک سائبر کرائم کا نشانہ بننے والے صارفین مجموعی طور پر ساڑھے تین ارب ڈالرز کا نقصان اٹھا چکے ہیں۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More