پاکستانی خاتون سائنسدان دنیا کا پہلا ماحول دوست طیارہ انجن متعارف کروانے کو تیار

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی، یہ فقرہ کسی شاعر کی تخلیقی سوچ تھی اسے حقیقت میں بدلا ہے پاکستانی خاتون سائنسدان ڈاکٹر سارہ قریشی نے، جو دنیا کا پہلا ماحول دوست طیارہ انجن بنارہی ہیں جس سے دنیا میں گلوبل وارمنگ کے خطرات میں یقینی کمی واقع ہوسکے گی۔


دنیا کا پہلا کنٹیل فری ایئر انجن یعنی ایسا انجن جو فضا میں جہاز سے نکلنے والی نقصان دہ گیسوں اور دھوئیں کے اخراج کو ماحول دوست ہوا اور مصنوعی بارش میں بدل دے گا، یہ عظیم ایجاد رواں برس کے اختتام تک منظر عام پر آجائے گی۔
ڈاکٹر سارہ قریشی برطانیہ سے ماحول دوست انجن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرچکی ہیں۔سارہ انٹرنیشنل ایوی ایشن انڈسٹری کیلئے یہ انجن پاکستان میں تیار کررہی ہیں جو آخری مراحل میں ہے، ڈاکٹر سارہ نے اس حوالے ایک انٹرویو میں کہا کہ میں 2018 سے اس پروجیکٹ پر کام کررہی ہوں، جہازوں کے بھاری بھرکم انجنوں سے خارج ہونے والی زہریلی گیسوں اور دھوئیں کے باعث فضائی آلودگی اور حدت کا سبب بنتا ہے، یہ انجن اس دھوئیں کو مصنوعی بادل میں نہ صرف بدل دے گا بلکہ اس سے مصنوعی بارش بھی برسے گی۔


تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ فضائی آلودگی میں 15 فیصد کردار جہازوں کے دھوئیں کا ہے،
ڈاکٹر سارہ قریشی نے کنٹیل کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ جہازوں اور طیاروں سے نکلنے والے دھوئیں کی ایک سفید لائن کنٹیل کہلاتی ہے جو آسمان کی فضا کو نہ صرف آلودہ کرتی ہے بلکہ حدت میں بھی اضافہ ہوتا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کو ورلڈ ایوی ایشن اتھارٹی نے پہلے مسترد کردیا تھا اور فیول ایفیشنٹ انجنز پر فوکس کیا تھا.
دنیا بھر میں اس وقت عالمی درجہ حرارت میں اضافہ، گلوبل وارمنگ سب سے بڑا مسئلہ بن کر ابھررہا ہے اس میں فضائی سفر میں اضافے اور زمین پر انجنز کے استعمال کے باعث فضائی آلودگی کو قابو کرنے کی نت نئی ایجادات سامنے آتی رہتی ہیں، اس میں یہ ایجاد تازہ ہوا کا ایک جھونکا ہے.


  • 24 گھنٹوں کے دوران 🔥

    View More

    From Our Blogs in last 24 hours 🔥

    View More

    This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

    >