پی ٹی اے نے 24کمپنیوں کو موبائل فون تیار کرنے کا لائسنس جاری کر دیا

پی ٹی اے نے 24موبائل کمپنیوں کو موبائل تیار کرنے کا لائنسس جاری کر دیا

پاکستان میں بیرون ملک سے موبائل فون کی اسمگلنگ ختم ہونے کے بعد موبائل کمپنیوں نے مقامی سطح پر موبائل فونز کی تیاری میں دلچسپی لینا شروع کردی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) نے اب تک 24 موبائل فون تیار کرنے والی کمپنیوں کو مقامی سطح پر موبائل تیار کرنے کیلئے لائسنس جاری کردیئے۔

پاکستان کی ٹیکنو موبائل اور چینی کمپنی ٹرانلیشن ہولڈنگز نے پاکستان میں موبائل فون کی تیاری کیلئےایک مشترکہ کمپنی جس کا نام ٹیکنو ٹرانلیشن الیکٹرونک لمیٹڈ(ٹی ٹی ای) ہے قائم کی ہے جو پاکستان میں تھری جی اور فور جی موبائل فون تیار کرے گی، اس شراکت داری میں پاکستانی حصہ 60 فیصد جبکہ 40 فیصد حصہ چیی کمپنی کا ہوگا۔

ٹی ٹی ای کے سی ای او آصف اللہ والا کا کہنا تھا کہ ہماری کمپنی پاکستان میں تھری جی فور جی موبائل فون بنانے والی پہلی کمپنی ہے، کمپنی نے سالانہ 18 لاکھ موبائل فون سیٹ تیار کرنے کیلئے 800 ہنر مند افراد کو بھرتی کیا ہے یہ افرادی قوت 30 برس سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے جو موبائل فون تیاری کے عمل میں مصروف ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ موبائل فون کی اسمگلنگ رکنے کے بعد ملک میں مقامی سطح پر موبائل سیٹ کی تیاری کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے، 24 کمپنیوں نے پاکستان میں موبائل سیٹ تیار کرنے کا لائسنس لیا ہے، پاکستان میں موبائل فون کی معیشت کا سالانہ حجم 366ارب روپے ہے جبکہ آٹو سیکٹر کے سالانہ کاروبار کا حجم 360 ارب روپے ہے،ملک میں موبائل فون سیٹس کی انڈسٹری آٹو سیکٹر سے بڑی ہے، اس شعبے کی ترقی کیلئے حکومت ایک پالیسی تشکیل دے تاکہ ملک میں مقامی سطح پرموبائل فون کی تیاری کی صنعت کو فروغ مل سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ موبائل فون کی انڈسٹری دنیا کی پانچ بڑی صنعتوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کا مرکز چین ہے جو سال میں 150 ارب ڈالر کی برآمدات کرتا ہے چینی لیبر کا ماہانہ خرچہ 600 ڈالر ہے جبکہ پاکستان میں لیبر صرف 120 ڈالر ماہانہ پر کام کرتی ہے ، دنیا بھر میں موبائل فون کا سالانہ 552ارب ڈالر کا کاروبار ہوتا ہے ، مستقبل میں پاکستان موبائل تیار کرنے والی کمپنیوں کیلئے ایک پرکشش جگہ بن سکتا ہے۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More