کوئٹہ کے انجینئر نے کرونا وائرس سے بچاؤ کی آسان مشینیں تیار کرلیں

کوئٹہ کے انجینئر نے کرونا وائرس سے بچاؤ کی آسان مشین ایجاد کرلی

پاکستان کے انجنیئر کورونا کے خلاف جنگ میں پیش پیش ہیں۔۔ لاہور اور جھنگ کے انجینیر نے واک تھرو سینیٹائزر گیٹ بنایا۔۔ تو اب بلوچستان کے انجینیئر علی گل نے کرونا سے بچاؤ کیلئے ٹچ لیس ڈیوائس ایجاد کرلی ہے۔۔مشین کو گھر، دکان یا اسپتال کے داخلی راستے پر لگا کر وائرس سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

اس مشین کی نوجوان نے خصوصیت یہ بتائی کہ اسے ٹچ کئے بغیر سینسٹائزر کا لیکویڈ ہاتھ میں آجاتا ہے۔دوسرا اس نوجوان نے ایک سریننگ کٹ بھی بنائی ہے جس سے جسم کا ٹمپریچر چیک کیا جاسکتا ہے۔ اگر ٹمپریچر زیادہ ہوجائے تو اسکا نوٹیفکیشن موبائل پہ بھی جنریٹ ہوجاتا ہے۔

اسی نوجوان نے ایک تیسری مشین بھی بنائی ہے جسے کے سامنے آپ جائیں گے تو ٹچ کئے بغیر یہ آپکی باڈی پر جراثیم کش سپرے کرے گا۔ یہ ڈیوائس انٹری گیٹ یا جہاں پر رش زیادہ ہوتا ہے وہاں کیلئے انتہائی مفید ہے۔

کوئٹہ کے رہائشی نوجوان علی گل نے کرونا وائرس سے محفوظ رکھنے والی مشین انتہائی کم وقت میں تیار کی جس میں زیادہ خرچہ بھی نہیں آیا، مشین میں ہینڈ سیٹلائیزر، جسمانی درجہ حرارت جانچنے کی صلاحیت موجود ہے۔۔

بلوچستان میں کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے نوجوانوں کا متحرک ہوجانا خوش آئند قرار دیا جارہاہے۔۔ اس عالمی وفا کے خلاف دنیا بھر کے ڈاکٹرز کے ساتھ ساتھ انجینئرز بھی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔۔

    MPA (869 posts)

    I appreciate his hard work to putting all small devices together but in advanced countries these devices are already available in market and also installed all public places.

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More