انٹرنیٹ کے ذریعے لاکھوں کمانے والی پاکستانی خاتون

ملک بھر میں بے روزگاری کی شرح میں روز افزوں اضافے کے باعث نوجوان انٹرنیٹ کی مدد سے روزگار کے متبادل راستے اپنا رہے ہیں۔

پاکستان کی ایمن سروش بھی ان لوگوں میں سے ہیں جو انٹرنیٹ کے ذریعے گھر بیٹھے ہزاروں ڈالرز ماہانہ کماتے ہیں۔

انٹرنیٹ کے ذریعے پیسے کمانے کو فری لانسنگ کہا جاتا ہے جبکہ فری لانسنگ کرنے والا وقت اور جگہ کی قید سے آزاد ہوتا ہے اور خود اپنی مرضی سے اپنے کام کا تعین کرسکتا ہے۔ لوگوں کو جسمانی طور پر کسی دفتر میں موجود ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ ورچوئلی (یعنی عدم موجودگی میں کمپیوٹر کے ذریعے) کام کر سکتے ہیں۔

ایمن ایک فری لانسر ہیں اور دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود اپنے کلائنٹ کے لیے کام کر سکتی ہیں۔ اس کے لیے انھیں کسی دفتر میں جانے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ انھیں ان کے کام اور گھنٹوں کے حساب سے پیسے ملتے ہیں۔

فری لانسنگ ایک ایسا ذریعہ ہے جو پاکستان کے نوجوانوں میں تیزی سے پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔ ایمن کا کہنا ہے کہ ایک لیپ ٹاپ اور اچھا انٹرنیٹ کنکشن موجود ہو تو آپ کہیں سے بھی فری لانسنگ کر سکتے ہیں۔

ان کے مطابق فری لانسنگ کی شروعات میں ہی کوئی بھی بہت زیادہ پیسے نہیں کما سکتا بلکہ اس فیلڈ میں وقت کے ساتھ کمائی میں اضافہ ہوتا ہے۔

ان کا مزید کہنا یہ تھا کہ جتنی آپ اچھی سروسز فراہم کریں گے جتنا اچھا کام کریں گے اتنا ہی زیادہ اس کا آؤٹ پٹ ہو گا۔ فری لانسنگ میں بہت سی ایسی فیلڈز ہیں جن میں کوئی بھی پڑھا لکھا شخص اپنے کام کے ذریعے سے کامیابی حاصل کر سکتا ہے اور ان فیلڈز میں انگریزی زبان پر مکمل عبور نہ ہونے سے بھی فرق نہیں پڑے گا جیسا کے سافٹ وئیر یا ایپلیکیشن ڈیویلپمنٹ۔

ایمن کا کہنا ہے کہ کووڈ سے پہلے یہی تصور کیا جاتا تھا کہ صرف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے متعلق سروسز ہی انٹرنیٹ کے ذریعے فراہم کی جاسکتی ہیں جبکہ کووڈ کے باعث دنیا میں موجود ہر طرح کے شعبہ کے لوگوں نے آن لائن کام کیا ہے۔
ان کے مطابق اب تقریباً 99 فیصد کام آن لائن کئے جاسکتے ہیں۔

ویسے تو فری لانسنگ میں آپ ہر ممکن کام کر سکتے ہیں۔ تاہم اس شعبے میں تجربہ رکھنے والی ایمن بتاتی ہیں کہ ’فری لانسنگ میں آپ ڈیٹا انٹری کر سکتے ہیں۔کسی کی ویب سائٹ، بلاگ یا فیشن پر تحریر لکھ سکتے ہیں۔

’سپریڈ شیٹس، ایم ایس ورڈ یا آفس سے متعلق کوئی کام، بنیادی گرافک ڈیزائنگ یا سوشل میڈیا پوسٹ بنانے کا کام اس وقت فری لانسنگ میں کافی چل رہا ہے۔‘

اس وقت فری لانسنگ کی ڈیمانڈ جن شعبوں میں ہے ان میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ بھی ہے۔ ’اس میں سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور ایفلیٹ مارکیٹنگ آ جاتی ہیں۔ ’

وہ مزید کہتی ہیں کہ سافٹ ویئر اور ایپ بنانے کے کام کی پاکستان سمیت دنیا بھر میں کافی طلب ہے جس کو ہنر مند نوجوان اپنی محنت اور کام سے پورا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے نوجوانوں کو ایسے ہنر سیکھنے چاہیئں تاکہ مستقبل میں ان کے پاس ایک متبادل ذریعہ آمدن موجود ہو۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >