واٹس ایپ پالیسی پھر خبروں میں،نئی پالیسی کو تسلیم نہ کرنے پر اکاؤنٹ کے ساتھ کیا ہوگا؟

معروف سوشل میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے رواں سال 4 جنوری کو اپنی نئی پرائیویسی پالیسی کا اعلان کیا تھا جس پر صارفین کا شدید ردعمل اور تحفظات کا اظہار دیکھنے میں آیا تھا۔ کمپنی نے اس کو جنوری میں مؤخر کر دیا تھا تاہم اسے اب 15 مئی سے لاگو کر دیا گیا ہے مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر آپ نے اسے اب بھی تسلیم نہ کیا تو آپ کے اکاؤنٹ کے ساتھ کیا ہوگا؟

واٹس ایپ انتظامیہ کے مطابق 15 مئی کے بعد بھی نئی پرائیویسی پالیسی قبول نہ کرنے والے صارفین کے اکاؤنٹس نہ ہی ختم کیے جائیں گے اور نہ ہی ان کے واٹس ایپ کی کارکردگی میں کوئی فرق پڑے گا۔ فی الحال کمپنی شرائط قبول نہ کرنے والے اکاؤنٹس کو ختم تو نہیں کر رہی لیکن صارفین کو ایک مخصوص مدت کے بعد یاد دہانی کا نوٹی فکیشن تب تک ملتا رہے گا جب تک صارف نئی شرائط کو قبول کر نہیں لیتا۔

تاہم ٹیک فیچرز کی معلومات رکھنے والے کچھ اداروں کا خیال ہے کہ جب تک صارفین نئی اپ ڈیٹس کو قبول نہیں کر لیتے اس وقت تک انہیں واٹس ایپ کے فیچرز محدود ہونے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جن میں صارفین کا اپنی چیٹ لسٹ تک رسائی نہ ہونا بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم وہ وائس اور ویڈیو کالز کا جواب دے سکیں گے۔

ایسے صارفین جنہوں نے نوٹی فیکیشن کے فیچر کو موثر رکھا ہوا ہے وہ نوٹیفکیشن میں آنے والے پیغامات کو پڑھنے، جواب دینے کے ساتھ مِس کالز کا جواب بھی دے سکیں گے۔ تاہم ایپ پر موجود اکثر پوچھے جانے والے سوالات میں انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کمپنی کچھ ہفتوں بعد ایسے صارفین کو کال اور پیغامات بھیجنے کا سلسلہ بند کر سکتی ہے۔

یاد رہے کہ 4 جنوری 2021 کو واٹس ایپ نے صارفین کے لیے نئی پرائیویسی پالیسی متعارف کرائی تھی جس میں کچھ شرائط متنازع تھیں، ان شرائط کے سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں واٹس ایپ کے لاکھوں صارفین اس کے مقابل میسجنگ پلیٹ فارمز ٹیلی گرام، سنگل وغیرہ پر منتقل ہوئے تھے جس سے کمپنی کو بڑی تعداد میں اپنے صارفین نے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>