کیا واقعی انٹرنیٹ پر ٹیکس لگایا جا رہا ہے؟ حکومت کی جانب سے وضاحت جاری

کیا واقعی انٹرنیٹ پر ٹیکس لگایا جا رہا ہے؟ حکومت کی جانب سے وضاحت جاری

وزیراعظم عمران خان اور وفاقی کابینہ نے بجٹ میں انٹرنیٹ استعمال کرنے پر لیوی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز مسترد کردی ہے۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر وفاقی وزیر توانائی  حماد اظہر نے اپنے ایک بیان  کہا کہ وزیراعظم عمرا ن خان اور  وفاقی کابینہ نے انٹرنیٹ استعمال پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں لیوی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کو منظور نہیں کیا ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ تجویز کے مسترد ہونے کے بعد  اسے  پارلیمنٹ میں منظوری کیلئے پیش کیے جانے والے فنائنس بل(بجٹ) کے حتمی ڈرافٹ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے بھی اس حوالے سے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تجویز تھی کہ انٹرنیٹ استعمال پر فی جی بی 5 روپے ٹیکس عائد کیا جائے، تاہم کابینہ اور وزیراعظم نے اس تجویز کو مسترد کردیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم چاہتے ہیں انٹرنیٹ تک رسائی ہر شخص کو ہونی چاہیے اس لیے انٹرنیٹ پر کوئی اضافی ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا تاکہ یہ عام آدمی کی قوت خرید میں رہ سکیں۔

واضح رہے کہ  اس سے قبل خبریں گردش کررہی تھیں کہ حکومت   تین منٹ سے لمبی فون کال، انٹرنیٹ استعمال کرنے اور ایس ایم ایس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، حکومتی تجویز کے مطابق  تین منٹ سے زائد فون کالر پر فی کال1 روپیہ اور 5 جی بی سے زائد انٹرنیٹ استعمال پر5 روپے اضافی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

تاہم ان خبروں کے بعد سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا جس کے بعد  حکومت نے اس تجویز کو منظور نہیں کیا ہے۔

  • یہ بات تو کل کی بجٹ تقریر میں شوکت ترین صاحب نے کہی ہے اور باقاعدہ کہا ہے کہ انٹرنیٹ پر ٹیکس اور فون کال پر تین منٹ کے بعد ایک روپیہ اور ایس ایم ایس پر دس پیسے ٹیکس لگائے جانے کی تجویز ہے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >