کن ممالک کے ہیکرز سب سے زیادہ پاکستانی ویب سائٹس پر حملہ کرتے ہیں؟

وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے کہا ہے کہ پاکستانی ویب سائٹس کو ہیک کرنے کی سب سے زیادہ کوشش بھارت، روس اور کچھ حد تک ایران سے ہوتی ہے۔

خلیجی خبررساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے سید امین الحق نے کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ملکی تاریخ کی پہلی سائبر سیکیورٹی پالیسی تیار کرکے وزارت قانون کو منظوری کیلئے بھجوادی ہے، وہاں سے منظوری کے بعد اسے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے پاکستان میں جتنا بھی انٹرنیٹ ڈیٹا استعمال ہورہا ہے، یا انٹرنیٹ پر جتنا بھی کام ہورہا ہے اسے محفوظ سے محفوظ تر بنایا جائے، تاکہ پیشہ ور ہیکرز سمیت دوسرے ملکوں کی ایجنسیوں کی ہیکنگ سے بھی ویب سائٹس کو محفوظ رکھا جائے۔

سید امین الحق نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی سرکاری یا نجی ویب سائٹس پر روزانہ کی بنیاد پر9 لاکھ ہیکرز کی جانب سے حملے کیے جاتے ہیں، مگر ہمارا نظام بہت مضبوط اور طاقتور ہے جس کی وجہ سے یہ سائبر حملے ناکام ہوجاتے ہیں۔

ان ہیکرز سے متعلق سوال کے جواب میں امین الحق کا کہنا تھا کہ پیشہ ور ہیکرز کے علاوہ ہماری ویب سائٹس پر سب سے زیادہ ہیکنگ کی کوششیں بھارت اور روس سے ہوتی ہے، اس کے علاوہ ایران سے بھی ہیکنگ کی کوشش ہوتی ہیں، تاہم ایران سے سرکاری سطح پر ہیکنگ کی کوششیں نہیں ہوتیں یہ سب پیشہ ور ہیکرز کا کام ہے، اگر پیشہ ور ہیکنگ کا سلسلہ نہ رکا تو اس حوالے سے ایرانی حکومت سے رابطہ بھی کریں گے۔

وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مزید کہنا تھا کہ5 لاکھ پاکستانی یوزر رکھنے والی کمپنیوں کو درخواست کی ہے کہ وہ پاکستان میں اپنے دفاتر قائم کریں، ان کمپنیوں میں فیس بک، ٹک ٹاک اور پب جی بھی شامل ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>