اے سی کے بغیر عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے کی نئی ٹیکنالوجی "ریڈی ایٹو کولنگ”

اے سی کے بغیر عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے کی نئی ٹیکنالوجی "ریڈی ایٹو کولنگ"

بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ سے ہمارے اردگرد کے ماحول میں بھی تیزی سے اثر پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے ہر گزرتے دن کے ساتھ ایئر کنڈیشنر کے استعمال اور اس کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس طرح اے سی کا استعمال بڑھنے سے موسم مزید متاثر ہو رہا ہے کیونکہ اے سی سے ایسی گیسوں کا اخراج ہوتا ہے جو اس موسمیاتی تبدیلی کے عمل کو مزید تیز کرتا ہے۔

اسی ضرورت کے تحت سائنسدانوں نے ایک نئی ریڈی ایٹو کولنگ ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جو کہ زمین کے خود کو ٹھنڈا کرنے کے عمل کی نقل کرتے ہوئے عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ اسکائی کول سسٹمز نامی کمپنی کے شریک بانی اور سی ای او نے بتایا کہ ہمارا سیارہ قدرتی طور پر انفرا ریڈ لائٹ یا ریڈی ایشن کے ذریعے حرارت خارج کرکے خود کو ٹھنڈا کرتا ہے۔

اس عمل کو ریڈی ایٹیو کولنگ کا نام دیا گیا ہے اور ایلی گولڈ اسٹین نے بتایا کہ ہم اس طریقہ کار کو استعمال کرکے دن اور رات بلکہ براہ راست سورج کی روشنی سے پیدا ہونے والی حرارت کو خارج کرسکتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس مقصد کے لیے وہ چھتوں پر پینلز نصب کرتی ہے جن میں نینو ٹیکنالوجی کو استعمال کیا گیا ہے۔

ان پینلز پر ایک آپٹیکل فلم موجود ہے جو انفراریڈ لائٹ خارج کرتی ہے اور اس دوران خود کو ٹھنڈا کرتی ہے۔ یہ پینل دیکھنے میں سولر پینلز جیسے ہیں مگر یہ اس سے مختلف کام کرتے ہیں، یعنی خود سے ٹکرانے والی 97 فیصد سورج کی روشنی کو واپس پلٹ دیتے ہیں اور سطح کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔

اسکائی کول سسٹمز کے بانی اور سی ای او ایلی گولڈ اسٹین کے مطابق نئی ٹیکنالوجیز جیسے ریڈی ایٹو کولنگ اکثر مہنگی ہوتی ہیں، لوگ ابتدائی اخراجات کے حوالے سے بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں، جو نئی ایجادات کے حوالے سے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ مگر بڑے پیمانے پر پروڈکشن سے لاگت کو کم کرنے میں مدد مل سکے گی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >