حکومت پنجاب نے سرمد کھوسٹ کی فلم زندگی تماشا کی ریلیز روک دی

فلم ساز سرمد کھوسٹ کی نئی فلم زندگی تماشہ کی ریلیز خطرے میں پڑگئی۔حکومت پنجاب نے فلم کی ریلیز

3 فروری تک روک دی۔ فلم 24 جنوری کو ریلیز ہونا تھی، فلم کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی۔ حکومت پنجاب کا کہنا ہے کہ کمیٹی کے حتمی فیصلے تک فلم کی نمائش نہ کی جائے، کمیٹی فلم کے بارے میں مختلف حلقوں کے تحفظات اور شکایات کا جائزہ لے گی۔
دوسری جانب سرمد کھوسٹ نے فلم زندگی تماشا کے خلاف مظاہرہ کرنے والے افراد کے خلاف لاہور کی سول کورٹ سے رجوع کرلیا۔ سرمد کھوسٹ نے دائر کردہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ زندگی تماشا کسی انفرادی گروہ یا شخص سمیت کسی بھی اجتماعی گروہ یا فرقے کے خلاف نہیں بنائی گئی بلکہ فلم کو صرف تفریح اور سماج کے اچھے پہلو اجاگر کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

اس فلم سے لوگوں کے ذہنی تناؤ میں کمی آئے گی ۔ فلم کی ریلیز رکوانے کے لیے انہیں دھمکیاں دینے کے ساتھ ان پر شدید دباؤ بھی ڈالا جارہا ہے۔ فلم کے ہدایت کار کی جانب سے دائر کیے جانے والے دعوے میں تحریک لبیک پاکستان اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے عدالت نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 22 جنوری کو دلائل کے لیے طلب کرلیا

یہ بھی پڑھیں :فلم ریلیز نہیں ہونے دی جا رہی مدد کریں، سرمد کھوسٹ کا وزیر اعظم کو خط

سرمد کھوسٹ نے ٹوئٹر پر ایک پوسٹ شیئر کی تھی جس میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ انہیں فلم ‘زندگی تماشا کی ریلیز کو روکنے کیلئے درجنوں دھمکی آمیز فون کالز اور میسجز کئے جارہے ہیں۔ ان تمام دھمکیوں کے بعد فلم ساز نے ٹوئٹر صارفین سے سوال کیا کہ کیا وہ فلم کی ریلیز کو روک دیں؟

انہوں نے اس ٹوئٹر پوسٹ میں ایک تفصیلی خط بھی شیئر کیا جس میں پاکستان اور پاکستانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ فلم زندگی تماشا’ میں کسی مذہبی فرقے یا لوگوں کے جذبات کو مجروح نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے انسٹاگرام پر بھی ایک دھمکی آمیز میسج کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا
وہ اس سے پہلے بھی پاکستانی صدر اور وزیرِاعظم سے اپیل کرچکے ہیں کہ انہیں ملنے والی دھمکیوں کا نوٹس لیا جائے لیکن اس بارے میں حکومت کی جانب سے اب تک کسی قسم کی کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

>