فلموں کے بارے میں رائے دینا اسلامی نظریاتی کونسل کا کام نہیں، ڈاکٹرقبلہ ایاز

Zindagi Tamasha

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے فلم "زندگی تماشا”کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلموں کے بارے میں رائے دینا اسلامی نظریاتی کونسل کا کام نہیں لیکن اگر سرکار ہم سے کوئی بات پوچھے تو یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کا جواب دیا جائے۔

ڈاکٹر قبلہ ایاز نے ہدایت کار سرمد کھوسٹ کی فلم’’زندگی تماشا‘‘ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سے سوالات کیے جا رہے ہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل اس بات کو یقینی بنائے کہ داڑھی کو لمبا رکھا جائے اور خواتین کے لیے الگ سے تعلیمی ادارے بنائے جائیں۔ قانون سازی میں بھی ظاہری چیزوں پر زیادہ فوکس کیا جا رہا ہے، ہم حقوق العباد اور دیگر چیزوں سے ہٹ گئے ہیں اور ہمارا زیادہ زور لباس اور چلنے پر ہو گیا ہے۔

ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا اگر سرکار ہم سے کوئی بات پوچھے تو یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کا جواب دیا جائے،حکومت نے فلم "زندگی تماشا” کا معاملہ ہمارے پاس بھیجا ہے اس کا جائزہ لیں گے۔ فلموں کے بارے میں رائے دینا اسلامی نظریاتی کونسل کا کام نہیں، ہم فلم اور ڈراموں کے ماہرین سے مشورہ لیں گے، ہم کوئی بھی رائے کسی دباؤ میں آ کر نہیں دیں گے، فیصلہ دینا صرف متعلقہ اداروں کا کام ہے، ہم فلم ’’زندگی تماشا‘‘ کے بارے میں فیصلہ نہیں صرف رائے دیں گے۔

اس سے قبل 21 جنوری کو فلم “زندگی تماشا” پر تحفظات کا جائزہ لینے کیلئے چار رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی تھی اور پنجاب حکومت نے فلم کی دوبارہ اسکریننگ کیلئے سرمد کھوسٹ کو تحریری طور پر آگاہ کردیا تھا۔ تحقیقاتی کمیٹی فلم کے بارے مختلف حلقوں کی شکایات اور تحفظات کا دوبارہ جائزہ لے گی۔

فلم کے ریویو کیلئے 3 فروری کی تاریخ مقرر کردی گئی۔تحقیقاتی کمیٹی فلم کے مرکزی خیال اور ممکنہ معاشرتی اثرات کے بارے میں رپورٹ تیار کرکے چیئرمین کو پیش کرے گی۔


  • 24 گھنٹوں کے دوران 🔥

    View More

    From Our Blogs in last 24 hours 🔥

    View More

    This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

    >