مومنہ مستحسن کی وزیراعظم کو مشورے کے بعد ٹائیگرفورس سے متعلق تجویز

کرونا وائرس سے بچاو اور اس کے خلاف جنگ کیلئے ہر کوئی اپنےاپنے لحاظ سے اپنا حصہ ڈال رہاہے۔ کہیں فنکار عطیہ دے رہے ہیں تو کہیں مشورے۔ ا

پہلے گلوکارہ مومنہ مستحسن نے وزیر اعطم کو کرونا سے متعلق اپنی معلومات پر نطر ثانی کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کرونا سے نوجوان بھی محفوظ نہیں ہیں۔ جس پر مومنہ پر ہی تنقید کی جانے لگی۔ تو مومنہ نے وضاحتی ٹوئٹس کردیئے۔

گلوکارہ نے وزیراعظم اور عالمی ادارہ صحت کی ایک پریس کانفرنس کا کلپ شیئر کیا جس میں وزیراعظم کا کہنا ہے کہ سب لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں ، کرونا وائرس صرف بزرگ اوربیمار لوگوں کو خطرہ ہے۔ جبکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اس بات کی وضاحت کی کہ نوجوانوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کرونا وائرس سے آپ بھی محفوظ نہیں یہ وائرس آپ کو ہفتوں کیلئے اسپتال میں رکھ سکتا ہے اور آپ کی جان بھی لے سکتا ہے۔

گلوکارہ نے لکھا کہ یہ تاثر کہ کرونا سے نوجوان محفوظ ہیں یہ کہنا نوجوانوں کی اموات میں مزید اضافےکا سبب بن سکتا ہے۔ ۔ اس خیال میں رہنا یہ بڑا مسئلہ ہے کہ صرف بزرگوں اور بیماروں کو وائرس خطرہ ہے۔کرونا وائرس سے بزرگ اور نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ غلط تاثر موت کی شرح میں اضافے اور وائرس کے مزید پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔

گلوکارہ نے کہا کہ ٹائیگر فورس میں شامل ہر رضا کار کا ٹیست ضروری ہے۔ اور انہیں روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کیا جائے۔

گلوکارہ نے کہا کہ کرونا کی عالمی وبا کو سیاسی بحث میں تبدیل کرنا شرم کا باعث ہے۔ ہم اس عالمی وبا کو پوری طرح سے سمجھ نہیں پائے۔ نظرانداز کرنا اورغلط معلومات تباہ کن ہوسکتی ہیں۔ تمام خطوں سے نئے ڈیٹا کو دیکھا جائے۔

گزشتہ روز مومنہ نے وزیراعظم کو کہا تھا کہ آپ نے قوم سے جو کہا اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، نوجوان بھی وائرس سے محفوظ نہیں ہیں۔ دنیا میں تیزی سے ان کی اموات ہو رہی ہیں۔ اس وقت غلط معلومات نقصان دہ ہوسکتی ہے۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More