صنم سعید اور شمعون عباسی پاکستان واپسی پر نئی مشکل میں پھنس گئے

اداکارہ صنم سعید اور اداکار شمعون عباسی کو تھائی لینڈ سے وطن واپس پہنچنے پر نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑگیا۔
کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن اور فضائی سفر معطل ہونے کی وجہ سے سینکڑوں پاکستانی مختلف ممالک میں پھنس کر رہ گئے تھے جنہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے وطن واپس لانے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے، تھائی لینڈ میں پھنسے پاکستان کے دو اداکار شمعون عباسی اور صنم سعید سمیت 300 افراد کو پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے پاکستان لایا گیا لیکن واپس پہنچتے ہی دونوں اداکاروں نے سوشل میڈیا پر بیان کیا کہ وہ واپس پہنچتے ہی ایک نئی مشکل میں پھنس گئے ہیں۔

دونوں اداکاروں کا کہنا تھا کہ ہمیں ایئرپورٹ پر بتایا گیا کہ سب مسافروں کو ایک ہوٹل میں رکھا جائے گاجہاں ان کے کورونا کے ٹیسٹ کیے جائیں گے کلیئرنس کے بعد ہی سب کو گھر جانے کی اجازت ملے گی یہ تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی لیکن ہوٹل پہنچنے کے بعد  نہ ٹیسٹ کیے گئے اور نہ ہی ہوٹل میں رہنے دیا گیا بلکہ کہا گیا اگر ہوٹل کا کرایہ نہیں دے سکتے تو حاجی کیمپ منتقل ہوجائیں۔

اداکارہ صنم سعید نے ٹویٹر پر لکھا کہ "بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کرتے ہوئے سب بہترین تھا، ایک ترتیب میں سب جہاز سے باہر نکلے، واک تھرو تھرمل سکریننگ سے گزرے، سامان لیا اور ایک بس کے انتظار میں کھڑے ہوگئے لیکن کہاں جانے کیلئے؟، اوہ ‘رمادہ ہوٹل’، ٹھیک ہے، ہوٹل پہنچے ، ہمیں ڈس انفیکٹ کرنے کے بعد چیک ان کرنے دیا گیا، ہوٹل کا عملہ جو خود سیفٹی سوٹ میں تھا انہوں نے ہمیں ایک ایک کرکے چیک کیا، طویل عمل تھا مگر محفوظ تھا، اس کے بعد عملے کے کچھ افراد ہمیں کمروں تک لے کر آئے، کھانا دروازے تک آیا، ایک وقت کے کھانے کا ایک ہزار، ہمارا ابھی تک ٹیسٹ نہیں کیا گیا، اور اچانک کہا گیا کہ 6 روز انتظار کریں”۔

انہوں نے اگلی ٹویٹ میں لکھا کہ اس کمرے میں ایک کھڑکی بھی نہیں ہے میرا یہاں دم گھٹ رہا ہے، تازہ ہوا کمرے کے ماحول اور جسم کیلئے انتہائی ضروری ہوتی ہے، ہمیں اچانک کہا گیا ہے کہ یا تو ہوٹل میں رہنے کا خرچ ادا کریں یا رات 10 بجے تک حاجی کیمپ منتقل ہونے کیلئے سامان باندھ لیں جہاں ٹیسٹ ہونے تک آپ کو رہنا ہوگا، مسافر اس سرپرائز کیلئے تو بالکل بھی تیار نہیں تھے”۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ” غلط معلومات، مسافر بیرون ملک لاک ڈاؤن میں 2 ہفتےگزارنے کے بعد پہلے ہی بہت پریشان ، نروس اور مالی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، پی آئی اے نے فی کس تھائی لینڈ سے پاکستان 1 لاکھ 11 ہزار روپے کرایہ وصول کیا ہے، سفارت خانے نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ حکومت کی جانب سے تمام اخراجات اٹھائیں جائیں گے صرف دو دن میں ہمارے ٹیسٹ کے بعد کلیئرنس پر گھر جانے کی اجازت ہوگی، ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت اس معاملے میں اپنی طرف سے بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کررہی ہوگی لیکن بہتر ہوتا اگر حکومت تمام مسافروں کو پہلے ہی تمام حقائق سے آگاہ کردیتی کہ ہوٹل میں رہنے اور کھانے کے اخراجات مسافروں کو برداشت کرنا ہوں گے تاکہ تمام لوگ ذہنی اور مالی طور پر تیار ہوتے”۔

صنم سعید نے آخر میں لکھا کہ” حکومت ہم سے چاہتی ہے کہ ہم اپنا کردار ادا کرکے ہدایات پر سختی سے عمل کریں،مگر حکومتی رویے کی وجہ سے اگلا آنے والا گروہ بھی پریشان ہوگا، خود غرض مت بنیں، این ڈی ایم اے اور حکومت براہ کرم اپنے تعینات کیے گئے افسران کو مسافروں تک صحیح ، واضح معلومات پہنچانے کو یقینی بنائیں بجائے جھوٹی تسلیاں دیتے رہیں”۔

اسی قسم کی کچھ صورتحال کا سامنا اداکار شمعون عباسی کو بھی کرنا پڑا انہوں نے فیس بک پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ”پاکستان پہنچنے پر انتظامیہ کی جانب سے بڑی عجیب سے ڈیلنگ دیکھنے کو ملی، تھائی لینڈ میں 2 ہفتوں کی آزمائش کاٹنے کے بعد ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہمیں واپس لایا جائے تو پی آئی اے کا ایک طیارہ ہمیں واپس لینے آگیا،ہم اس کیلئے شکر گزار ہیں کہ حکومت نے ہمیں اورتھائی لینڈ میں پھنسے 300 پاکستانیوں کو واپس لانے کے انتظامات کیے۔

شمعون عباسی کا کہنا تھا کہ” ہمیں پاکستان پہنچنے پر ایئرپورٹ پر بتایا گیا کہ ہمیں رمادہ ہوٹل لے جایا جائے گا جہاں ہمیں ٹیسٹ کے بعد کلیئرنس ملنے تک رکنا ہوگا، (ہم میں سے کسی بھی مسافر نے اس ہوٹل میں رہنے کی فرمائش یا مطالبہ نہیں کیا تھا)، ہمیں کہا گیا کہ یہ سٹے اور ہوٹل میں کھانا حکومت کی جانب سے ہوگا، ہمیں کہا گیا کہ اگلی صبح ہمارا کورونا کا ٹیسٹ کیا جائے گا اس کی رپور ٹ اور کلیئرنس تک ہم ہوٹل میں ہی قیام کریں گے، مگر اگلی صبح ہمیں بتایا گیا کہ 6 ،7 روز سے پہلے کسی کا ٹیسٹ ممکن نہیں ہے”۔

انہوں نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ” ہماری ٹکٹ 1 لاکھ 12 ہزار فی کس ہوئی تھی جس میں ہمیں بتایا گیا کہ ہمارا ہوٹل کا سٹے اور کھانا بھی شامل ہوگا مگر اب ہوٹل کی انتظامیہ ہر مسافر کو دھمکیاں دے رہی ہے کہ اگر ہوٹل میں قیام کرنا ہے تو کمرے کا کرایہ ادا کرے ورنہ اسے حاجی کیمپ بھیج دیا جائے گا، یہاں ایسے بھی لوگ ہیں جنہوں نے واپسی کیلئے بھاری رقم ادا کی ہے کہ اس میں یہ تمام اخراجات شامل ہوں گے،

ہمیں کہا جارہا ہے کہ اب ہمیں ہوٹل کے اور ٹیسٹ کے اخراجات ادا کرنا ہوں گے کیونکہ حکومت نے لاک ڈاؤن میں توسیع کردی ہے، ہم سب اپنے ٹیسٹ خود کروانے کیلئے تیار ہیں مگر ہوٹل انتظامیہ کا رویہ انتہائی شرمناک ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں بتایا جائے کہ 14 روز سے زائد بیرون ملک قرنطینہ میں گزارنے کے باوجود ہمارا اب ٹیسٹ کیوں نہیں کیا جارہا، اور کیوں ہمیں ہوٹل انتظامیہ ہر 10 منٹ بعد دھمکیاں دے رہی ہے کہ ہوٹل کا کرایہ دیں یا حاجی کیمپ جائیں، ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اور انتظامیہ اس معاملے پر نوٹس لے کیونکہ دیگر ہوٹلز سے اور بھی ویڈیوزسامنے آرہی ہیں”۔

  • بہت اچھا فیصلہ ہے حکومت کا۔ ۔ آپ لوگوں سے کس نے التجا کی ہے کہ ان حالات میں دوسرے ملکوں کے دورے کریں۔ ۔ کیا سوچ کے آئے تھے حکومت اکیس توپوں کی سلامی دے گی؟ ؟ اور رہی بات ہوٹل کے اخراجات کی۔ ۔ ان حالات میں جب ایک ایک پیسہ قیمتی ہے حکومت عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے آپ کے اجراجات کیوں برداشت کرے؟


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >