اداکارہ عظمیٰ خان ایف آئی آر کے اندراج کے بعد بھی غیر مطمئن کیوں ہیں؟

اداکارہ عظمیٰ خان ایف آئی آر کے اندراج کے بعد بھی غیر مطمئن

https://twitter.com/uzmaaaK/status/1265751346965348352?s=19

اداکارہ عظمیٰ خان اور ان کی بہن ہما خان سے متعلق کچھ روز قبل سامنے آنے والے ایک واقعہ کیخلاف گزشتہ روز تھانہ ڈیفنس لاہور میں مقدمہ درج کیا گیا اس واقعہ میں کچھ خواتین اپنے سیکیورٹی گارڈز کے ہمراہ ایک گھر میں داخل ہوئیں اور اداکارہ عظمیٰ خان اور ان کی بہن ہما خان پر عثمان ملک سے ناجائز تعلقات کے الزام میں تشدد کیا اور گھر میں توڑ پھوڑ کی جس کے نتیجے میں اداکارہ عظمیٰ خان زخمی بھی ہوئیں۔

عثمان ملک تشدد کرنےوالی خاتون کے شوہر اور مشہور بزنس ٹائیکون ملک ریاض کے داماد ہیں۔

مقدمے کے اندارج کے بعد عظمیٰ خان کا کہنا ہے کہ مقدمے میں کمزور دفعات شامل کی گئیں ہیں اور ان پر پیسے لے کر صلح کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو کو وائرل کرکے ان کی شہرت کو نقصان پہنچایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ خود ایک خاتون ہونے کے باوجود آمنہ عثمان نے ان کی ویڈیو کو وائرل کر کے ان کو بدنام کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آمنہ عثمان پولیس اسٹیشن میں آکر ان سے معافی مانگتیں تو وہ ان کو معاف بھی کر سکتی تھیں اور ممکن تھا کہ وہ مقدمہ بھی نہ درج کراتیں مگر عظمیٰ خان کے مطابق ان کو پیسے کا لالچ دے کر چپ کرایا جا رہا ہے مگر وہ اس مقدمے کی پیروی کریں گی اور آخر تک جائیں گی۔

مقدمے میں 452، 427، 506 کی دفعات شامل کی گئیں ہیں جس میں طبی معائنے کی اقسام ایف 2 اور ایل ون کے تحت دفعہ 337 بھی لگائی گئی ہے، مقدمے میں مارنے ،گالیاں دینے اسلحہ سے ڈرانے دھمکانے اور 2 آئی فون، ہیرے کی انگوٹھیاں، رولیکس گھڑیاں، جوتے اور دیگر سامان چوری کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عظمیٰ خان کی درخواست کے مطابق سنگین دفعات شامل نہیں کی گئیں ان کی جانب سے 506 بی کی دفعہ شامل کرنے کی درخواست دی گئی تھی جو کہ شامل نہیں کی گئی۔

دوسری طرف ملک ریاض کی جانب سے وکیل نے کہا کہ عظمیٰ خان کے گھر آنے والے لوگوں کے پاس اسلحہ موجود نہیں تھا اور ان کے اس طرح کے مقاصد نہ تھے جیسا کے اداکارہ کی جانب سے الزام عائد کیا جارہے ہے۔

عظمیٰ خان کا کہنا ہے کہ وائرل ہونے والی تمام ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ان کو زدوکوب کیا گیا اور ان پر اسلحہ لہرایا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا۔

دوسری طرف عظمیٰ خان کے وکیل بیرسٹر حسان خان نیازی کا کہنا ہےکہ ایف آئی آر میں اہم چیزیں شامل نہیں کی گئیں اور ان دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جن کے تحت کسی بااثر شخص کو ہاتھ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔کمزور ایف آئی آر کے اندراج کے باوجود وہ حوصلہ نہیں ہاریں گے اور قانون کی بالا دستی کیلئے عدالت تک ضرور جائیں گے اور انصاف لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ درخواست کے باوجود کمزور ایف آئی آر کا اندراج بھی قانون شکنی کی مثال ہے، ان کا کہنا تھا کہ ملک ریاض کی بیٹی نے پاس کھڑے ہو کر اپنے سیکیورٹی گارڈ کو عظمیٰ خان سے بدتمیزی کرنے کو کہا۔

وکیل حسان نیازی نےمزید کہا کہ یہ سارا واقعہ ملک ریاض کی بیٹی پشمینہ ملک کی نگرانی میں ہوا جوکہ زین ملک کی اہلیہ ہیں، زین ملک جعلی اکاؤنٹس کیس اور بحریہ آئیکون کیس میں بھی نامزد ملزم ہیں۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More