بشری ٰ انصاری نے’اماں’ سے متعلق اپنے بیان کی وضاحت دیدی

بشری ٰ انصاری نے'اماں' سے متعلق اپنے بیان کی وضاحت دیدی

گزشتہ دنوں ڈرامہ سیریل زیبائش پر تنقید کرنے پر ڈراموں پر تبصرہ کرنے والی معروف یوٹیوبر لبنیٰ فریاد عرف اماں سے متعلق بشریٰ انصاری نے انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔

ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید ہوئی اور انہوں نے یہ پوسٹ تھوڑی دیر بعد ہی اپنے اکاؤنٹ سے ہٹادی تھی، تاہم سوشل میڈیا صارفین اور اس کے بعد خود لبنی ٰ فریاد نے ان کے بیان پر شدید تبصرہ کیا، بشریٰ انصار ی کے اس بیان کے بعد ان پر سوشل میڈیا پر اتنی تنقید ہوئی کہ ٹویٹر پر بشری انصاری ٹرینڈ بن گیا۔

تاہم اب بشری ٰ انصاری کیا جانب سے ان کی اس پوسٹ کی وضاحت سامنے آئی ہے، انہوں نے اپنے سخت الفاظ پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ڈرامہ اور پراجیکٹ جس میں ہم کام کرتے ہیں وہ ہمارے لیے ہماری اولاد جیسا ہوتا ہے جو ہم اپنے شائقین کی محبت کے ساتھ پیدا کرتے ہیں، اسی لیے جب کوئی اس کا مذاق اڑاتا ہے تو ہمیں افسوس اور دکھ ہوتا ہے۔

View this post on Instagram

A positive wave for all of us. #bekindtoall

A post shared by Bushra Bashir (@ansari.bushra) on

انہوں نے مزید کہا کہ ہر ایک کو ہمارا کام پسند یا ناپسند کرنے کا حق ہے، تاہم مجھے احساس ہے کہ میں نے اپنی پوسٹ میں سخت الفاظ کا استعمال کیا ہے، مجھے اپنی غلطی کا احساس بھی ہوگیا اور میں نے اس پوسٹ کو ہٹا بھی دیا لیکن افسوسناک بات ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک تماشا کھڑا ہوگیا ، مجھے احسا س ہے کہ میں اپنا غصہ ٹھیک طریقے سے ہینڈل نہیں کرپائی۔

یاد رہے کہ بشری ٰ انصاری نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں لبنی فریاد کیلئےے پینڈو اور کورونا جیسے الفاظ استعمال کیے تھے۔

View this post on Instagram

افسوس بہت افسوس

A post shared by Lubna Faryad (@lubnafaryad9) on

 

 

  • Still she is teaching others to be careful in using words and commenting on the reaction she got on her improper instagram message as a "tamasha” started. So my question is, what is her own learning out of this whole episode.

  • عوامی اسٹیج یا میڈیا پر آنے والے مقدس گاے نہیں ہیں کہ ہر کوئی ان کو سجدہ کرے ،  دراصل وہ اپنی ذاتیات سے باہر نکل کر عوامی اثاثہ بن جاتے ہیں ،  عوام ہی ان کو اپنے سروں پر بٹھاتے ہیں اور وہ ہی عوام ان کو اپنی ٹھوکروں پر 

    لوگوں کی تنقید کا مطلب وہ اشارہ ہے کہ اپنے آپ پر توجہ دو اور سوچو کہاں حدود پار کی گئیں ہیں نہ کہ لوگوں پر اپنے غصے کا اظہار کریں 

  •  

    عوامی اسٹیج یا میڈیا پر آنے والے مقدس گاے نہیں ہیں کہ ہر کوئی ان کو سجدہ کرے ،  دراصل وہ اپنی ذاتیات سے باہر نکل کر عوامی اثاثہ بن جاتے ہیں ،  عوام ہی ان کو اپنے سروں پر بٹھاتے ہیں اور وہ ہی عوام ان کو اپنی ٹھوکروں پر

     

    لوگوں کی تنقید کا مطلب وہ اشارہ ہے کہ اپنے آپ پر توجہ دو اور سوچو کہاں حدود پار کی گئیں ہیں نہ کہ لوگوں پر اپنے غصے کا اظہار کریں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >