شہزاد رائے کے ساتھ گلوکاری کرنیوالا بلوچ گلوکار ”واسو“ آج کس حال میں ہے؟

شہزاد رائے کے ساتھ گانا گانے والا بلوچی لوک گلوکار "واسو” آج کس حال میں ہے؟

گلوکار شہزاد رائے کے ساتھ گانے میں پاکستان کی سیاسی تاریخ اپنے منفرد انداز میں بیان کرنے سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے بلوچ لوک گلوکار واسو خان سے متعلق سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے کہ وہ بیماری کے باعث کسمپرسی کی حالت میں ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایک رینڈم پوسٹ سامنے آئی جس میں دعویٰ کیا گیا واسو خان تین وقت کی روٹی سے بھی محروم ہیں اور شہزاد رائے نے بھی ان کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے۔

اردو نیوز نے واسو خان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تو انہوں اپنے مخصوص لہجے اور انداز میں حالات و واقعات سے آگاہ کیا تاہم انہوں نے اس تاثر کو زائل کیا کہ شہزاد رائے نے انہیں تنہا چھوڑ دیا ہے۔

صحت سے متعلق دریافت کرنے پر واسو خان نے بتایا کہ ‘میں بیمار ہوں، مجھے شوگر ہے ، ٹانگ میں درد ہے، بخار بھی رہتا ہے، ابھی تو چلنے پھرنے کے قابل بھی نہیں رہا۔’

شہزاد رائے سے تعلق کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘میں بیمار ہو گیا۔ اس نے میرا بہت علاج کرایا۔ 2 لاکھ خرچ کیا آغا خان ہسپتال میں علاج کرایا۔ اب بھی اس کی بہت مہربانی ہے وہ رابطہ کرتے ہیں، 24 گھنٹے رابطے میں رہتے ہیں۔’
انہوں نے کہا کہ ‘گلوکاری چھوڑی نہیں اب بھی گاتا ہوں تاہم صحت کی وجہ سے ڈھیلا پڑ گیا ہوں۔ صحت مند ہو کر شہزاد رائے کے ساتھ مزید گلوکاری کروں گا۔’

ایک سوال کے جواب میں واسو خان نے بتایا کہ ‘شہزاد رائے نے مجھے 2010مکان لے کر دیا تھا جو کہ سیلاب میں گر گیا جس کو بیچ کر اپنا علاج کرایا۔ اب میں کرائے کے مکان میں رہتا ہوں۔ شہزاد نے تو گھر دیا، پیسہ دیا بہت کچھ دیا ہے تاہم اپنی آمدن نہ ہونے کے برابر ہے۔’

شہزاد رائے سے ناراضگی سے متعلق سوال کے جواب میں واسو خان نے بتایا کہ ‘وہ ناراض نہیں ہیں بلکہ شہزاد رائے کی مجھ سے ناراضگی کی جو وجہ تھی وہ کام ہی چھوڑ دیا ہے

واسو خان کا تعلق ضلع جعفر آباد سے ہے اور وہ بلوچستان کی مقامی زبانوں کے علاوہ اردو، پنجابی اور سرائیکی میں گانے گاتے ہیں۔ واسو خان نے شہزاد رائے کے ساتھ گلوکاری کے علاوہ سماجی مسائل پر ‘میں اور واسو’ پروگرام میں بھی شرکت کی تھی۔ کچھ روز قبل بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بھی واسو سے ملاقات کی اور انہیں ہر مدد کی یقین دہانی کروائی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >