دلیپ کمار اپنے آبائی گھر کو قومی ورثے میں لینے کے فیصلے پر پاکستان کے شکرگزار

بالی ووڈ کے لیجنڈ اداکار دلیپ کمار نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے پشاور میں موجود اپنے آبائی گھر کو قومی ورثے میں لینے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دلیپ کمار اور راج کپور کے آبائی گھروں کو تحویل میں لے کر ان کی تزئین و آرائش کے بعد ان عمارتوں کو بطور میوزیم عوام کیلئے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس خبر کے پڑوسی ملک پہنچتے ہی دلیپ کمار نے ٹویٹر پراپنے پیغام میں اس گھر سے وابستہ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے اس فیصلے کو سراہا اور کہا کہ میری اس گھر اور قصہ خوانی بازار سے بہت سے خوشگوار یادیں وابستہ ہیں جہاں میں نے کہانی گوئی کا پہلا سبق سیکھا تھا جس نے بعد میں مجھے میرے کام میں بہت مدد کی۔

ایک ٹویٹر صارف کی جانب سے اس گھر کی چند تصاویر شیئر کیے جانے پر دلیپ کمار نے اسے ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پشاور میں جس کے پاس بھی اس گھر کی تصاویر ہیں میں ان سے درخواست کرتا ہوں وہ یہ تصاویر شیئر کرکے مجھے ٹیگ کریں۔

اپنے جذبات کا اظہار کرنے کیلئے لکھے گئے ایک بلاگ میں دلیپ کمار نے لکھا کہ اس گھر کو محفوظ رکھنے کیلئے قومی ورثے میں لیے جانے کی خبر نے مجھے اس وہاں گزارے میری زندگی کے خوشگوار دنوں کی یادوں میں کھینچ لیا ہے۔

اس سے قبل دلیپ کمار کی اہلیہ سائرہ بانو نے بھی خیبر پختون خوا  حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ میں جب بھی یہ سنتی ہوں کہ دلیپ کمار کے گھر کو آنے والی نسلوں کیلئے یادگار بنایا جارہا ہے تو میرا دل خوشی سے جھوم اٹھتا ہے۔

واضح ہو کہ محکمہ آرکیالوجی کی سفارش پر صوبائی حکومت نے دلیپ کمار اور راج کپور کے آبائی گھروں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

دلیپ کمار 11 دسمبر 1922 کو پشاور کے قصہ خوانی بازار کے محلہ خداداد میں واقع ایک گھر میں پیدا ہوئے تھے۔ 1988 میں پاکستان آمد کے موقع پر انہوں نے اس گھر کا دورہ بھی کیا تھا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >