آئٹم نمبرز آرٹ کا سب سے نچلا درجہ ہے، ہمیں اسکی ضرورت نہیں ۔ حمزہ علی عباسی

تفصیلات کے مطابق پاکستان نے کی فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے کامیاب اداکار حمزہ علی عباسی کا حال ہی میں ، ان کی آنے والی فلم "دی لیجنڈ آف مولا جٹ” کی ریلیز کے حوالے سے ایک انٹرویو میں پاکستان میں بننے والی نئی فلموں میں آئٹم سونگز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آئٹم نمبرز آرٹ کا سب سے نچلا درجہ ہے اور ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

حمزہ علی عباسی کا انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ایک ایسا گانا جس میں عورت کی جنسی اپیل کی طرف توجہ دی گئی ہو یہاں تک کے اس گانے کے جو دھنیں ہیں  وہ بھی عورت کی جنسی اپیل پر مرکوز ہوتے ہیں، یہ گانے ٹیلی ویژن پر چلتے ہیں اور سوشل میڈیا پر گردش کرتے ہوئے بچوں تک پہنچ جاتے ہیں، کیا آپ کے خیال میں یہ غلط چیز نہیں ہے؟ یقینا یہ غلط ہے۔

اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ گانوں یا فلموں میں جو عورت کے کپڑوں کو چھوٹا کر دینا کوئی آرٹ نہیں ہے اور نہ ہی ہمیں اس کی کوئی ضرورت ہے، یہ آرٹ نہیں بلکہ بکواس ہے اور اس کا ہمارے ملک پر برا اثر پڑ رہا ہے، یہاں تک کہ انڈیا اور بالی ووڈ بھی اس سے دور ہیں۔ یہ بی-گریڈ قسم کا مواد سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ عورت کو سکرین پر چھوٹے کپڑوں میں دکھا کر اسے آرٹ کا نام نہیں دے سکتے، اگر یہ آرٹ ہے تو سٹریپ شوز کو آرٹ کیوں نہیں کہا جاتا؟ انہوں نے کہا کہ مذہبی نقطہ نظر اور یہاں تک کہ سیکولر نقطہ نظر سے بھی یہ غلط ہے۔

حمزہ علی عباسی کا اپنے بارے میں بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ خود کو ایک مشہور شخصیت نہیں سمجھتے، میں اپنے آپ کو کسی مشہور شخصیت کی حیثیت سے نہیں بلکہ کسی ایسے شخص کی حیثیت سے بیان کرتا ہوں جس نے کچھ پروجیکٹس کئے ہوں۔ لوگ مجھے بس میرے چہرے سے پہچانتے ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >