کیا انگریزی بولنا پڑھے لکھے ہونا کا ثبوت ہے؟

پاکستانی معاشرے کیلئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ انگریزی بولنا پڑھے لکھے ہونے کی ضمانت سمجھا جاتا ہے، انگریزی آتی ہو چاہے پھر اکیڈمک ایجوکیشن نہ لی ہو، یا پڑھ لکھنے کے بعد بھی ان پڑھ اور جاہلوں جیسا رویہ اپنایا جائے، جس کی تازہ مثال وفاقی دارالحکومت کے ریسٹورنٹ کی دو مالکن نے دے دی۔

گزشتہ رات سے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دونوں مالکن اپنے مینیجر کی انگریزی کا مذاق اڑارہی ہیں،اس سے انگریزی میں سوالات پوچھنے کے بعد انگریزی میں ہی تعارف کروانے کا کہتی ہیں اور جب کنفیوز ہونے پر مینیجر درست جواب نہیں دے پاتا تو قہقہہ لگا کر مذاق اڑاتی ہیں

ویڈیو وائرل ہونے پر جہاں صارفین نے خواتین کو آڑے ہاتھوں لیا وہیں شوبز شخصیات نے بھی مینیجر کی حمایت میں میدان میں آگئیں۔

مایہ ناز اداکار عدنان صدیقی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ پیسوں سے تمیز نہیں خریدی جاسکتی ٹوٹی انگریزی کی وجہ سے دو خواتین نے اپنے ریسٹورنٹ کے منیجر کی توہین کی جو غیر مناسب ہے، ان کے پاس کسی کی توہین کرنے کا کوئی حق نہیں،اس ریسٹورنٹ میں کبھی قدم نہیں رکھوں گا۔

اداکارہ اشنا شاہ نے کہا جب میں پاکستان شفٹ ہوئی تو میں نے اسکرپٹ کے لئے اردو پڑھنا سیکھی تھی، ایک عقلمند خاتون نے نشاندہی کی تھی کہ اگر آپ پاکستان میں رہتے ہیں اور اس کی قومی زبان نہیں لکھ پڑھ سکتے تو تکنیکی طور پر آپ ان پڑھ ہیں، میں بہت سارے پڑھے لکھے ان پڑھ لوگوں کو جانتی ہوں۔

اداکارہ اور میزبان انوشے اشرف کا کہنا تھا کہ کوئی بھی اقدام اس شرمندگی کو ختم نہیں کرسکتا چاہے خواہ وہ آپ کا بہت اچھا دوست کیوں نہ ہو سال 2021 میں کسی کی اس طرح ٹانگ کھینچنا قابل قبول نہیں ۔

اداکار احمد علی بٹ ، ماورا حسین سمیت دیگر اداکاروں نے بھی ویڈیو پر تبصرہ کیا، سارہ خان نے لکھا کیا فائدہ اتنے پڑھے لکھے ہونے کا جب سوچ اتنی جاہلانہ ہوتو۔

شدید تنقید کے بعد ریسٹورنٹ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ انھیں اپنی ٹیم کے ایک رکن کے ساتھ ‘ہلکی پھلکی گفتگو’ کو لوگوں کی جانب سے غلط انداز میں لیے جانے پر افسوس اور حیرانی ہے، اور جہاں وہ کسی کو بھی ٹھیس پہنچنے پر معافی مانگتے ہیں، وہیں انھیں اپنے ملازمین کے ساتھ اچھے سلوک پر کسی کو صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

  • I am not understanding why people are reacting so much, this is how we Pakistanis are, we think if a person can speak English is more educated and refined. The only problem is it came on social media, otherwise most of us think the same way

  • کوئی ایک کام کرے گا – ولائیتی حُلیے والی ان دیسی آنٹیوں کا کوئی نام پتہ ای میل ایڈریس یا ٹوئیٹر ہینڈل مجھے بھیجے – قسمے اگر اِن کے سارے ولایتی جِن نکال کے اصلی دیسی کوٹسمابوی جِن ان کے دماغوں میں پلانٹ نہ کیا تو میرا نام نہیں صرف ایک دفعہ تفصیلات شئیر کریں
    🙏🙏🙏🙏


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >