ایس ایس پی چوہدری اسلم شہید کی زندگی پر مبنی فلم کا ٹیزرجاری

سندھ پولیس کے بہادر ایس ایس پی چوہدری اسلم شہیدکی زندگی پر بنائی گئی فلم کا ٹیزرجاری کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 2014 میں کراچی کے علاقے لیاری میں خود کش حملے میں شہید ہونے والے سندھ پولیس کے سینئر سپرٹنڈنٹ پولیس(ایس ایس پی) چوہدری اسلم کی زندگی پر بنائی گئی فلم "چوہدری دی مارٹر” کا پہلا ٹیزر جاری کردیا گیا ہے۔

اس فلم کی ہدایت کاری کے فرائض عظیم سجاد نے دیئے جب کہ اس میں چوہدری اسلم کا کردار ان کے ساتھ کام کرنے والے پولیس افسر طارق اسلام نے نبھایا ہے، اس فلم کی کہانی ذیشان جنید نے لکھی ہے۔

چوہدری اسلم کی زندگی پر فلم بنانے کے آئیڈیا کے پیچھے ڈی آئی جی سندھ مقصود میمن کا کریٹیو مائنڈ تھا جبکہ اس فلم کو بنانے میں اس وقت کے آئی جی سندھ کلیم امام نے ہر قسم کی سپورٹ کی، فلم کی کاسٹ میں مشہور اداکار شمعون عباسی، ارباز خان، عدنان شاہ ٹیپو، زارا عابد اور اصغر مانی قابل ذکر ہیں۔

فلم کے ٹیزر لانچ کے تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے والے طارق اسلام کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف جہاد ابھی بھی جاری ہے اس میں ہمارے کئی شیر دل ساتھی شہید ہوئے ان میں محمد اسلم خان ایک ببر شیر تھا۔

انہوں نے اس موقع پر چوہدری اسلم کا مشہور جملہ دہراتے ہوئے کہا کہ” میرا نام چوہدری اسلم ہے تم نے شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالا ہے”۔

تقریب میں اعلی پولیس حکام سمیت چوہدری اسلم کی اہلیہ نورین اسلم نے بھی شرکت کی اور کہا کہ ملک کو ایسے بہادر جوانوں کی ضرورت ہے، چوہدری اسلم کبھی ڈرے نہیں انہوں نے دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا، میں اپنے 2 بیٹوں کو وطن کے حوالے کرنے کیلئے تیار ہوں۔

ایس ایس پی چوہدری اسلم شہید کی زندگی پر مبنی فلم کا ٹیزرجاری

واضح ہو کہ اس فلم کا پہلا پوسٹر اپریل 2019 میں سامنے آیا تھا جس کے بعد اب اس کا پہلا ٹیزر سامنے آیا ہے، امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ فلم کو 2021 میں ہی سینما گھروں میں ریلیز کردیا جائے گا، تاہم کوئی حتمی تاریخ ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔

یاد رہے کہ1984 میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی حیثیت سے سندھ پولیس کا حصہ بننے والے چوہدری اسلم نے 30 سالہ کیریئر میں کراچی سے جرائم پیشہ عناصر کے خاتمے میں وہ کردار ادا کیا جس کی قیمت چکانے کیلئے انہیں اپنی جان دینا پڑی۔

متعد د بار جان لیوا حملوں میں بچ جانے والے محمد اسلم اپنے کیریئر کی مشکلات، کیسز، تنازعات کے باوجود اپنے فرائض کی ادائیگی تن دہی سے کرتے رہے اور 9 جنوری 2014 کو لیاری ایکسپریس وے پر سفر کے دوران ایک خود کش حملے کا نشانہ بن گئے اور شہید ہوگئے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >