موجودہ حکومت سے زیادہ مزاحیہ حکومت آج تک نہیں دیکھی،عفت عمر

موجودہ حکومت سے زیادہ مزاحیہ حکومت آج تک نہیں دیکھی،عفت عمر

معروف اداکارہ اور سابق ماڈل عفت عمر نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ اس حکومت سے زیادہ مزاحیہ حکومت میں نے آج تک نہیں دیکھی۔

تفصیلات کے مطابق اداکارہ نے حال ہی میں وائس آف امریکہ کی خصوصی سیریز ‘انٹرویو 360’ میں شرکت کی جہاں ان سے موجودہ حکومت کے بارے میں سوالات کئے گئے جن کے جوابات بہت دلچسپ تھے۔

اداکارہ کے نزدیک اس حکومت سے زیادہ مزاحیہ حکومت انہوں نے آج تک نہیں دیکھی، انہوں نے مزید کہا کہ میں کسی زمانے میں خود عمران خان صاحب کے چاہنے والوں میں شامل تھی اور کافی حد تک ان کا ساتھ دیتی تھی مگر ان کی حکومت نے مجھے بھی بہت ناامید کیا ہے۔

اداکارہ نے اپنے پولیٹیکل سٹائر پروگرام کے حوالے سے کئے جانے والے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ پروگرام دانستہ طور پر حکومت کے متعلق نہیں تھا مگر وہ نادانستہ طور پر ان سے میل کھاتا ہے۔

اداکارہ کا مزید کہنا تھا کہ میرے مطابق ہمارے ملک میں اصلی جمہوریت ابھی تک نہیں آئی اور جب تک جمہوریت نہیں آئے گی ہمارا ملک صحیح طریقے سے نہیں چل سکتا۔ ان کے مطابق انہیں پہلے سیاست میں اتنی دلچسپی نہیں ہوتی تھی مگر اب سیاست میں دلچسپی وزیراعظم عمران خان کی وجہ سے ہے۔

میزبان نے سوال پوچھا کہ کیا ایسا شخص جوکہ اتنے اونچے عہدے پر فائز ہے اس کو  "کھپ دان،کپی دان” جیسے القابات سے پکارنا درست ہے؟ عفت عمر نے کہا جی بالکل درست ہے۔ کیونکہ میرا ماننا ہے آپ جتنے اونچے عہدے پر ہوتے ہو آپ کو تنقید بھی برداشت کرنا پڑتی ہے۔کہیں نہ کہیں تو پریشر برداشت کرنا پڑتا ہے، بہت سے لوگوں نے ڈرانے کی کوشش کی مگر اتنے پریشر کا سامنا تو کرنا پڑا۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ میرا پروگرام پاس کر یا برداشت کر ٹی وی پر اس لئے بھی نہیں آ سکتا کہ پیمرا کے بھی مسائل سامنے آ جاتے ہیں۔ اس لئے یہ پروگرام سوشل میڈیا کے لئے ہی ٹھیک ہے۔ اپنی عمر سے متعلق بات کرتے ہوئے اداکارہ نے کہا کہ اگر کوئی مجھ سے میری عمر پوچھے گا میں ضرور بتا دوں گی۔

میزبان نے پوچھا کیا بڑھتی عمر کے ساتھ انڈسٹری میں جگہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے؟ اداکارہ نے اس سوال کا جواب مثبت دیتے ہوئے کہا کیونکہ ہمارے لئے خاص طور پر کردار نہیں لکھے جاتے اگر اتفاقاً کوئی کردار ہو کسی ڈرامے میں تو وہ آپ کو مل جاتا ہے۔ ہماری مارکیٹ بھی ابھی جوانوں کو ہی دیکھنا چاہتی ہے۔

میزبان نے مزید پوچھا کہ جس طرح کی خواتین کی عکاسی ہو رہی ہے، ساس بہو کے رشتے،طلاق وغیرہ اس پر بہت سے اداکار بھی تنقید کرتے ہیں مگر آپ جیسے نامور لوگ ایسے ڈراموں میں کام کرتے بھی نظر آتے ہیں ؟

اداکارہ کا کہنا تھا معاشرے میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں اگر آپ کوئی منفی کردار ادا کرتے ہیں تو آپ کو کسی کو بھی کوئی صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سنسر کے بارے میں پوچھنے پر اداکارہ نے کہا میں سنسر کے خلاف ہوں آپ عمر کی حد مقرر کر کے پروگرام کو نشر کر سکتے ہیں مگر آج کل کے زمانے میں سنسر نہیں کیا جاسکتا۔

میزبان نے پوچھا آپ کے مطابق وہ لوگ جو سوشل میڈیا پر آتے بھی ہیں دوسروں پر تنقید بھی کرتے ہیں کیا یہ ٹھیک ہے؟
اداکارہ نے کہا کسی پر تنقید کرنا بری بات نہیں ہے مگر اس کو اچھے انداز سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ آپ اسے مشورے دے سکتے ہو،اس سے دوسرا انسان سیکھے گا بھی اور اسے برا بھی نہیں لگے گا۔

  • Some actresses are working less in dramas and showing their performances more in BBC and voice of America , Dawn and NGOs associated programs!! As if we don’t know who plays strings of these puppets!

  • لگتا ہے کہ اس بڈھی ٹھرکن کا اب اپنے شوہر کی سرکاری نوکری کی تنخواہ میں گزارہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ سالی، کرونا کی دونوں ویکسینز لگوانے کے بعد اس بے غیرت راشی کی بیوی کا ایمان جاگ گیا

        • She was a resident of APWA hostel Lahore in 1990 and was in her twenties. She was a small time artist with loose character. Yousaf Sali became her friend then and she became more known as he was living next to hera mandi and had connections with all movie and drama producers as well as advertiser agencies who use to give her small roles. That, s how she became a bit known as an artist. I don,t think with her reputation she can be married to anyone. I don,t think that anyone from hera mandi would like a miser and a play boy like Imran khan who was considered as a mufta by residents of hera mandi

  • اس ٹھرکن عورت سے کوئی پوچھے جب تو ایک ڈارامے میں راحت کاظمی کے ساتھ بار بار گلے مل کر اپنی ٹھرک پوری کر رہی تھی وہ مزاخ نہیں تھا جبکہ راحت کاظمی اس ڈارامے میں اس ٹھرکن کے باپ کا کردار ادا کر رہا تھا یہ بات اس ٹھرکن نے خود نعمان اعجاز کو انٹرویو میں بتائی تھی ان بیشرموں کو کوئی شرم نہیں ھے جو دوسری عورتوں کے گھر برباد کرتی ہیں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >