عورت مارچ میں شامل کسی عورت کومظلوم عورتوں کی مددکرتے نہیں دیکھا،جویریہ سعود

معروف اداکارہ جویریہ سعود عورت مارچ میں شرکت کرنے والوں پر برس پڑیں، کہتی ہیں عورت مارچ میں شامل کسی عورت کو مظلوم خواتین کی مدد کرتے نہیں دیکھا۔

تفصیلات کے مطابق اداکارہ جویریہ سعود نے ایک انٹرویو میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر نکالے جانے والے مارچ پر گفتگو کرتے ہوئےکہا ہے کہ عورت مارچ میں شامل کسی عورت کو مظلوم خواتین کی مدد کرتے نہیں دیکھا، اگر ان خواتین کے نعرے ان کی مدد کرسکتے ہیں تو اداکارہ ان کا ساتھ دیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر واقعی مظلوم خواتین کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو مظالم بند کریں، بینرز اٹھانے اور نعرے لگانے سے مسائل حل نہیں ہوتے، مظلوم خواتین کے لیے نعرے لگانے کے بجائے ان کے مسائل کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ خواتین مظلوم خواتین کے لیے آواز اٹھاتی ہیں لیکن اس آواز کا اب تک میں نے کوئی فائدہ نہیں دیکھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مظلومیت کا مطلب ہے ایک عورت پر واقعی ظلم کیا جارہا ہو، لیکن بہت سی خواتین ایسی ہیں جو اپنا گھر اور مستقبل اپنے مفاد کیلئے ختم کرچکی ہیں۔

جویریہ سعود نے تمام خواتین کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک شادی شدہ عورت کے لیے پہلی ترجیح اس کا خاندان اور اس کی اولاد ہے بعد میں اس کا کیرئیر اور مستقبل آتا ہے۔

  • جو بیچاری بوڑھئ بوڑھی ڈلڈو آنٹیاں کچھ طلاق یافتہ کچھ سزا یافتہ کچھ اسلام بیزا ر کچھ مردم بیزار کچھ باپ بیزا ر کچھ بھائی بیزار کچھ شوہر بیزار کچھ شرافت بیزار کچھ ملک بیزار اور کچھ بیچاری دیہاڑی دار اور کچھ خود ہی غیرملکی این جی اور بنا کر انکی دی ہوئی امداد پر پل رہی ہیں ان کو تو خود امداد کی ضرورت ہے یہ دوسروں کو کیسے مدد کر سکتی ہیں
    ان میں سے کچھ بیچاریوں کچھ مجبور اور غریب لڑکیوں عوتوں غیرملکی امداد پر پلنیُ والی اور این جی والی بوڑھی بوڑھی آنٹیوں کے چنگل سے نکال کر کونسلنگ کی ضرورت ہے
    کچھ بیچاری مجبور شریف گھرانوں والیاں حقیقت میں مجور ی میں ان بوڑھی بوڑھی ڈلڈو آنٹیوں کا ساتھ دے رہی ہیں
    ان کو خاص طور پر امداد اور کونسلنگ کی ضرورت ہے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >