سجل اور احد کی ویب سیریز ’دھوپ کی دیوار‘ پر پابندی کا مطالبہ کیوں ؟

ماضی میں یکے بعد دیگرے کئی سپرہٹ ڈرامے لکھنے والی معروف پاکستانی مصنفہ عمیرہ احمد کا حال ہی میں سامنے آنے والا نیا ڈرامہ "دھوپ کی دیوار” ایک تنازع کا شکار ہو گیا۔ انہوں نے اس سے قبل شہرذات، زندگی گلزار ہے، درشہوار، میری ذات ذرہ بےنشاں اور دیگر بہترین اور سوپرہٹ ڈرامے لکھے ہیں.

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور وہاں 2019 میں ہونے والے پلوامہ حملے کے تناظر میں بنائی جانے والی ویب سیریز دھوپ کی دیوار 25 جون کو بھارتی اسٹریمنگ پلیٹ فارم زی فائیو پر ریلیز ہورہی ہے جس میں اداکار احد رضا میر اور سجل علی مرکزی کردار ادا کررہے ہیں۔

معروف ڈرامہ اور ناول نگار عمیرہ احمد کی تحریر کردہ کہانی پر بنی ویب سیریز دھوپ کی دیوار کی ہدایتکاری حسیب حسن نے کی ہیں۔ حقیقی واقعات سے متاثر ہوکر بنائی گئی ویب سیریز کی کہانی پاکستان اور بھارت کے 2 خاندانوں کے گرد گھومتی ہے۔ تاہم دھوپ کی دیوارکا ٹیزر اور بعدازاں ٹریلر ریلیز ہونے کے بعد سے اس کی کہانی تحریر کرنے والی معروف ناول و ڈرامہ نگار عمیرہ احمد کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

ویب سیریز میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی خلاف ورزیوں پر شہید ہونے والے اہلکاروں کے خاندان کے درد کو سامنے لانے کی ایک کوشش ہے۔

اس ڈرامے کی ریلیز کیلئے کسی بھارتی پلیٹ فارم کے بجائے بین الاقوامی پلیٹ فارم کا انتخاب کیا جانا بہتر تھا لیکن "دھوپ کی دیوار” کی ریلیز سے قبل ہی اس کے موضوع کی بنا پر ایک بھارتی پلیٹ فارم پر ریلیز کو کچھ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ناپسند کیا جارہا ہے۔

اسفندیار بھٹانی نے امن کی آشا کو طنزیہ انداز میں امن کا تماشا لکھتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار بھی فیل ہوا تھا اور دوسری بار بھی فیل ہی ہو گا کیونکہ خون پر کھڑے ہو کر امن کی باتیں نہیں کی جا سکتیں۔

حبیب یوسفزئی نے کہا کہ پیارے کشمیریوں ہمت نہ ہارنا دھوپ کی دیوار جیسے گھٹیا ہتھکنڈے سے تم لوگ ہمت مت ہارنا، پاکستان تم لوگوں کے ساتھ تھا ہے اور ساتھ ہی رہے گا۔ کشمیر کی آزادی کا مطالبہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

ایک صارف نے کہا کہ امن کی آشا اور دھوپ کی دیوار جیسے پراجیکٹ کے ساتھ ہم کشمیر کی ان ماؤں کو نہیں بھول سکتے جنہوں نے اپنے معصوم بیٹے، بھائی اور شوہر کھوئے ہیں۔ جنہیں ہر روز بھارتی فوج مار رہی ہے۔

اے بی ایچ کھوکھر نے کہا کہ وہ دھوپ کی دیوار والے نظریے کو ریجیکٹ کرتے ہیں اور دو قومی نظریے والی آئیڈیالوجی کو فالو کرتے ہیں۔ یہ نہ نظر آنے والی دیوار ہمیشہ رہے گی کیونکہ اس کی آڑ میں کشمیریوں کواندھا کیا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے وضاحتی بیان دیتے ہوئے عمیرہ احمد نے کہا ہے کہ ‘دھوپ کی دیوار’ کی کہانی اس وقت لکھی گئی جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات اتنے خراب نہیں تھے اور نہ ہی کشمیر میں جو آئینی طور پر حالیہ تبدیلیاں کی گئی ہیں، وہ ہوئی تھیں۔

مصنفہ نے بتایا کہ جب انہوں نے اس موضوع پر کام کرنا شروع کیا تو جنوری 2019 میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کو اس کی پوری کہانی بھیجی تھی اور اس وقت کی آئی ایس پی آر کی ٹیم کو کہانی کی جانچ کرنے کا کہا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ آئی ایس پی آر نے نہ صرف موضوع کو ٹھیک کہا تھا بلکہ انہوں نے راولپنڈی میں ایک ملاقات کی تھی۔ ڈرامہ نگار کے مطابق آئی ایس پی آر نے ان سے کہا تھا کہ ‘ہمارا پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے حوالے سے یہی مؤقف ہے کہ دونوں ممالک آپس میں بات چیت کریں اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے نتیجے میں فوجیوں کے ساتھ ساتھ شہری آبادی کے نشانہ بننے کی صورتحال ختم ہوجائے۔

عمیرہ احمد نے مزید کہا کہ اگر موضوع غیر مناسب ہوتا تو اس پر لکھنے سے منع کردیا جاتا جبکہ کہانی کے لیے آئی ایس پی آر نے بہت زیادہ سپورٹ کیا۔

انہوں نےمزید کہا کہ اگر آئی ایس پی آر کو دھوپ کی دیوار کے موضوع یا مواد پر اعتراض ہوتا تو وہ خواتین کیڈٹس کے حوالے سے سیریل پر کام کے لیے ان کا انتخاب نہ کرتے۔ پیسے کے لیے ملک سے غداری اور بھارت کی جانب سے ‘دھوپ کی دیوار’ کی کہانی لکھوانے کے الزامات سے متعلق عمیرہ احمد نے کہا کہ دھوپ کی دیوار بھارت نے نہیں لکھوایا بلکہ انہوں نے ایک بنی ہوئی چیز خریدی ہے۔

  • It’s overall content is absolutely not acceptable but it’s rejectable, it should b banned at once with its cheap actors.. We condemn it, how dare you can portrait Indian army as an innocent figure, it’s brutality in occupied Kashmir is witnessed by all over the world, they r funding terrorists in Balochistan to destabilize.. Writer, producer, director, actors should b banned, & be ashamed..


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >