مرحوم اداکار انوراقبال کی وہ فلم جو 40 سال بعد بھی ریلیز نہ ہوسکی

کچھ روز قبل انتقال کرجانیوالے اداکار انوراقبال کی وہ فلم جو آج تک پاکستان میں ریلیز نہ ہوسکی۔۔

ڈان نیوز کے صحافی خرم سہیل نے انوراقبال مرحوم کی ایک فلم کی دلچسپ کہانی شئیر کردی جو آج تک سینما گھروں میں ریلیز نہ ہوسکی۔

خرم سہیل کے مطابق اداکار انوراقبال نے پاکستان میں بننے والی پہلی بلوچی فلم ‘ھملء ماہ گنج’ میں کام کیا۔ یہ فلم 1975ء میں مکمل ہوچکی تھی اور اسے اگلے برس ریلیز ہونا تھا لیکن سیاسی مخالفت کی وجہ سے اس فلم کی نمائش روک دی گئی۔

ڈان کے صحافی کے مطابق چالیس سال گزرنے کے باوجود یہ فلم ریلیز نہ ہوسکی۔ انور اقبال اس فلم کے پروڈیوسر تھے اور اس میں ہیرو کا کردار بھی نبھایا تھا۔یہ فلم دراصل انوراقبال مرحوم کے بڑے بھائی اکبر اقبال نے شروع کی تھی جن کی ناگہانی وفات کے بعد اس فلم کو انوراقبال نے مکمل کیا۔

دلچسپ امریہ ہے کہ اس فلم میں کام کرنیوالے کسی فنکار نے اپنے کام کا معاوضہ تک نہیں لیا تھا، سب نے مفت میں کام کیا تھا جس کامقصد بلوچ کلچر کو اجاگر کرنا تھا۔

یہ بلوچی فلم ایک ایسے شخص پر مبنی ہے جو اپنے وطن کی محبت میں پرتگالی غاصبوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا ہے، پھر ایک پرتگالی لڑکی کو بلوچ جوان سے محبت بھی ہوجاتی ہے مگر وہ اس کو اپنے وطن کی محبت میں رد کردیتا ہے۔

انور اقبال کی فلم کی مخالفت اس قدر بڑھ گئی تھی یہ نعرہ اس وقت عام ہوگیا تھا کہ فلم چلے گی تو سینما جلے گا۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کے طلبہ اس کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ فلم کی مخالفت کی ایک وجہ انور اقبال کے والد تھے جو اس وقت ایک اہم سیاسی شخصیت تھے ان کے سیاسی حریفوں کو خوف تھا کہ کہیں انور اقبال اس فلم کے ذریعے مقبول ہوکر سیاسی میدان میں ان کے لیے سیاسی مشکلات کھڑی نہ کردیں۔

اس فلم کی مخالفت کی ایک اور بڑی وجہ بلوچ سرداروں کی مخصوص سوچ بھی تھی جو سمجھتے تھے کہ بلوچی ثقافت کسی فلم کی محتاج نہیں ہے، بلوچ ثقافت اور کلچر ہم سے ہے ۔ دوسرا انہیں یہ خوف بھی تھا کہ فلم کا گلیمر اور بے پردگی کہیں بلوچ سماج میں منفی رجحانات کو فروغ نہ دے لہٰذا فلموں کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔

اسکے بعد پاکستان ٹیلی ویژن کراچی مرکز کے ایم ڈی عبدالکریم بلوچ نے انور اقبال کو یہ پیش کش بھی کی تھی کہ آپ ہمیں یہ فلم دے دیں ہم اس کو پی ٹی وی سے اقساط کی صورت میں نشر کردیں گے۔ اس طرح عام فلم بین کم از کم اس فلم کو دیکھ لے گا اور سب کو اندازہ بھی ہوجائے گا کہ اس فلم میں کیا ہے لیکن انوراقبال اس پرآمادہ نظر نہ آئے۔

اس فلم کا ایک خصوصی شو حاکم علی زرداری نے کراچی میں اپنے سینما بمبینو میں کروایا تھا لیکن اس کے باوجود یہ فلم پردہ گمنامی میں ہی رہی۔ یہی وجہ ہے آج آپکو پشتو، پنجابی زبانوں میں فلمیں نظر آتی ہیں، سرائیکی اور سندھی زبان میں بھی کچھ فلمیں دیکھنے کو ملتی ہیں لیکن بلوچی زبان میں فلم دیکھنے کو نہیں ملتی، اسکی وجہ اس فلم کے ریلیز نہ ہونے کی وجہ سے پروڈیوسرز میں پیدا ہونیوالا خوف ہے۔

یوٹیوب پر آپکو یہ مکمل فلم دیکھنے کو مل جائے گی۔۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>