"بے شرمی کو عام کرنا فيمنزم کا پہلے مقصد ہو گیا ہے”شہروز اہلیہ کے حق میں سامنے آ گئے

ماڈل اور اداکارہ صدف کنول کا ایک پروگرام میں فیمنزم کے حوالے سے بیان سوشل میڈیا پر نیا طوفان لایا، مذاق ، طنز  اور میمزبنائی جارہی ہیں، جس پر شہروز سبزواری اہلیہ کے حق میں بول اٹھے، انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں شرکت کی اور اہلیہ کے دفاع میں بیان دیا۔

پروگرام سات سے آٹھ ميں شہروز سبزواری نے کہا کہ ان کی اہليہ نے اسلامی تعليمات کے مطابق بات کی،صدف نے کچھ غلط نہيں کہا ان پر ناز ہے ان کے ساتھ کھڑا ہوں،اگر صدف تین سے چار روز سے ٹوئٹر پر ٹرینڈ کررہی ہیں تو یہ مثبت وجوہات کی بنا پر ہے،

شہروز سبزواری نے کہا کہ صدف کو بندوق کی نوک پر یہ نہیں کہا گیا  تھا کہ وہ کیا کہے اور نہ ہی وہ ایک مظلوم عورت ہے،اگر صدف اپنے شوہر سے وہ پیار وہ عزت وہ احترام نہ ملتی جو وہ دے رہی ہیں تو دنیا کے سامنے ایسا کچھ کہتی بھی نہیں۔

اداکار نے کہا کہ صدف کے بیان کے بعد لوگوں نے صدف کو سراہا اور مثبت پہلو دیکھا جو کچھ لوگوں سے ہضم نہیں ہوا،جب آپ کسی کے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے اس پر کیچڑ اچھالنا شروع کردیتے ہیں تو آپ خود اس کیس کو کمزور کردیتے ہیں اور اس سے دوسروں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

اداکارہ صدف کنول نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ فيمنزم کا مطلب شوہر کا خيال رکھنا اور اس کی عزت کرنا ہے، شوہر کے کپڑے استری کرنا اس کے جوتے اٹھانا ہمارا کلچر ہے،جس پر انہیں جہاں سراہا گیا وہیں تنقید بھی کی گئی،

اداکارہ سلمیٰ ظفر نے صدف کا بيان بے وقوفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدف کنول نے الفاظ کا انتخاب درست نہيں کيا،عورت مارچ کی کئی خواتين بھی فيمزم کے حقيقی معنی نہيں جانتيں،کسي کے بيان کے بجائے خواتين کے اصل مسائل پر توجہ دينی چاہيے۔

ماڈل سبیکا امام نے کہا تھا کہ  یہ صرف صدف کی غلطی نہیں، بیچاری اتنا ہی بولے گی جتنا اسے پتا ہے، میرے خیال میں میزبان کو صدف سے سنجیدہ سوال نہیں پوچھنے چاہیے تھے، میزبان کو چاہیے وہ جو بھی سوال کرے اس حوالے سے ذمہ دار ہو، تاکہ ایسے موضوعات معمولی نہ ہوجائیں،

ایک عورت کو اپنے شریک حیات سے محبت کرنی چاہیے اور اس کا خیال رکھنا چاہیے لیکن بحیثیت عورت کے حقوق اور مواقع کو گھر کے کاموں تک محدود کرنا یہ معاشرے میں موجود صنفی ناانصافی میں مبتلا عورتوں کے لیے گمراہ کن، کم علمی اور تکلیف دہ ہے۔

  • اب بیویاں وہ والی نہیں رہیں اب تو وہ مرد جتنا خود کما لیتی ہیں لہذا وہ بھی تھک جاتی ہیں اور کماتی بھی ہیں۔ مرد اور عورت کو اپنی ڈیوٹیاں بانٹ کر ادا کرنی چاہییں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >