جنسی زیادتی کے متاثر بچے میں پانچ علامات ،خدارا ان کلیوں کو پامال ہونے سے بچا لیجئے

خدارا ان کلیوں کو پامال ہونے سے بچا لیجئے

اپنے بچوں کے بدلتے ہوئے رویوں کو نظر انداز مت کیجئے

انہیں پیار توجہ اور اعتماد دیجئے

حالیہ برسوں میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں غیر معمولی طور پر اضافہ ہوا یے۔ آئے روز کہیں نہ کہیں کوئی ایسا دلخراش واقعہ رپورٹ ہوتا ہے جس میں عموما کم سن بچوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جاتا یے ۔ پچھلے برس کی بات یے قصور میں چمکتی آنکھوں اور پریوں جییسی معصومیت چہرے پہ لئے ننھی زینب گھر سے سپارہ پڑھنے نکلی ۔ تلاش بسیار کے باوجود نہ ملی ۔ پھر کیا ہوا اس حرماں نصیب کا نوچا ہوا بے جان بدن کوڑے کے ڈھیر پہ پڑا تھا ۔

اس کی میڈیکل رپورٹ انسانیت کے نام پر طمانچہ تھی جس میں عیاں تھا کہ پھول جیسی بچی کے ساتھ وحشت درندگی بربریت کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے گئے ۔ پھر قصور میں تو ہر تیسرے گھر کے کسی نہ کسی بچے کے پامال ہونے کی خبر عام کوئی جس پر اداروں کے کان کھڑے ہوئے تو پتہ چلا کہ یہ سلسلہ تو ایک عالمگیر دھندے سے منسلک یے جو بچوں کی پورن ویڈیوز بنا کر یورپ کی منڈیوں میں فروخت کر کے لاکھوں ڈالرز کمانے والے بااثر مافیا کا منظم کاروبار یے۔ ابھی پچھلے ہفتے مانسہرہ کے ایک مدرسے کا معصوم طالب علم اپنے ہی استاد کے دست ہوس کا نشانہ بن گیا ۔ خود کو قاری کہلانے والے انسان نما درندے نے اس تواتر کے ساتھ ننھی جان کو بد فعلی کا نشانہ بنایا کہ اس کی آنکھوں سے خون آنے لگا ۔

قابل غور بات یہ ہے کہ ایسے تمام کیسز میں تفتیش کے بعد یہ سامنے آیا کہ بچوں کو پامال کرنے والا کوئی قریبی رشتہ دار نکلا یا پھر ایسا آدمی جس پر بچوں کو اعتماد تھا۔اور یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کرتے ہیں بعض رشتوں پر ہمارا اعتماد اس درجہ غیر متزلزل ہوتا ہے کہ ہم مان کر ہی نہیں دیتے کہ فلاں شخص بھی اس طرح کے قبیح فعل کا مرتکب ہو سکتا یے
اگر بچہ دبے لفظوں میں کسی انہونی کے متعلق کہنا بھی چایے تو ہم ڈانٹ ذپٹ کر اسے وہیں چپ کرا دیتے ہیں

ایک جاننے والے کی بچی جو ابھی تیسری کلاس میں پڑھتی یے سکول وین کے باریش اور ادھیڑ عمر ڈرائیور کے ہاتھوں جنسی حراسگی کا شکار ہوئی ۔ اس سے قبل کئی بار بچی نے گھر آ کر ماں کو ڈرائیور انکل کی نامناسب حرکتوں کا بتایا جب بات گھر کے بڑوں تک پہنچی تو بہو کو ڈانٹ کے چپ کرا دیا گیا کہ وہ تو نمازی بندہ ہے ۔ بچی کی بات پر توجہ نہ دینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ معصوم اپنے دادا کی عمر کے شخص کے ہاتھوں برباد ہو گئی

والدین کو اپنے بچوں کے بدلتے ہوئے رویوں پہ کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اپنائیں ۔تاکہ بچے گھر سے باہر پیش آنے والا کوئ واقعہ یا نامناسب بات ان سے ہر گز نہ چھپائیں
ماہرین نفسیات نے اس ضمن میں والدین کی رھنمائ کے لئے چند علامات وضع کی ہیں جن کی مدد سے بچے کی زندگی میں کسی انہونی کا سراغ لگانا ممکن ہو جاتا یے ۔

ہم اپنے قارئین کی رہنمائی کی خاطر یہ علامات یہاں تحریر کئے دیتے ہیں جن کا علم والدین کو ہونا ضروری یے ۔

نمبر1 : کھلونوں سے نامناسب رویہ

مشاہدہ کریں اگر اپ کو لگے کہ بچہ اپنے کھلونوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے کچھ عجیب و غریب حرکات کرنے لگا ہے۔ اس کا برتاو اپنے کھلونوں کے ساتھ عام بچوں سا نہیں تو آپ کا چونکنا اور محتاط ہو جانا ضروری یے

یہ علامت ہے کہ بچہ کہیں نہ کہیں کسی حوالے سے جنسی حراسگی کا شکار یے ۔ وہ شرم ، خوف اور کسی دباو کے تحت اپ کو بتانے سے قاصر ہے لیکن اپنے اندر جاری ٹوٹ پھوٹ کو دبانے کی خاطر وہ اپنے کھلونوں پر ردعمل دینا شروع کر دیتا یے۔ یہ وقت ہے بچے کو محبت شفقت سے اپنے ساتھ رکھیں۔ اس کا ڈر دور کریں ۔ کرید کر اس کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کا کھوج لگائیں

نمبر2 ۔ نیند کا متاثر ہونا

اپنے بچوں کی نیند کے معمولات بھی آپ کو خبردار کر سکتے ہیں ۔ اگر آپ کا بچہ بہت زیادہ سونے لگا ہے یا اس کی نیند اچاٹ ہو گئی ہے وہ رات بھر جاگتا رہتا ہے تو یہ بھی علامت ہے کہ بچہ کسی اضطراب ، پچھتاوے اور کرب سے دوچار یے۔ ماھرین کے مطابق نیند کے معمولات متاثر ہونا بچے کے رویے میں غیر معمولی تبدیلی کی علامت یے۔ بچہ اگر کسی نامناسب سلوک کا شکار یے تو وہ خوف اور پریشانی کا شکار ہو کر راتوں کو اٹھ اٹھ کر بیٹھنے لگتا یے ۔ اسے ڈراونے خواب آنے لگتے ہیں ۔ ایسا ہو تو والدین بچے کو اکیلا سلانے سے گریز کریں ۔ خاص طور پر رات کو سوتے ہوئے اسے کمپنی دیں ۔ اس کے سر کے بال سہلائیں اس کے اندر کے اضطراب کو نکالنے کی کوشش کریں تاکہ اندر ہی اندر وہ جس کرب سے دوچار یے اسے بلا خوف اپ سے کہہ پائے

نمبر3 ۔ غیر معمولی حرکات و سکنات کا مظاہرہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بچے جو جنسی ہراسگئ کا شکار ہوتے ہیں گھر میں اپنے والدین کے ساتھ عجیب و غریب حرکات کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں ۔ یا تو وہ ہر وقت چپ چپ ، اکتائے ہوئے بیزار دکھتے ہیں ۔

یا پھر وہ خاص طور پر ماوں سے ہر وقت چپکے رہتے ہیں ۔ ہاتھ پکڑ کر بیٹھ جائیں گے بار بار پیار کریں گے چومیں گے ۔ اس طرح کے حالات میں بچہ گھر سے باہر نکلنے سے کترانے لگتا یے ۔ بس اب وقت ہے اپ جان جائیے کہ اپ کا بچہ خود کو باہر غیر محفوظ سمجھتا ہے اسے آپ کا ساتھ اچھا لگنے لگا یے وہ آپ کے ساتھ خود کو محفوظ سمجھتا یے ایسی علامت ظاہر ہو تو بچے کو ڈانٹنا غلط یے اسے پیار سے کریدئیے پوچھیئے کہ وہ پریشان کیوں یے

نمبر4 ۔ جسم پر زخموں کے نشان

عموما ایسے بچے جو کسی نامناسب سلوک کا نشانہ بنتے ہیں اپنے جسم پہ آنے والے زخموں کو چھپانے اور والدین کی نظر پڑنے پر جھوٹ کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ کھیلتے ہوئے گر پڑا چوٹ آئ ۔ والدین کا فرض بنتا ہے کہ اگر آپ اپنے بچوں کے جسم پہ خاص طور پہ جسم کے نازک اعضا کے آس پاس کوئ زخم یا ایسا ویسا نشان دیکھیں تو اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز مت کیجئے ہو سکتا ہے بچہ کسی درندے کی وحشت کا نشانہ بن رہا ہو اور آپ کو بتاتے ہوئے بھی ڈرتا ہو ۔

نمبر5 ۔ سکول جانے یا کسی رشتہ دار کے ساتھ آنے جانے سے کترانا

یہ ایک فطری امر ہے کہ بچہ اگر کسی بھی ہراسگی کا شکار ہے تو وہ اس جگہ جانے یا اس شخص سے ملنے سے کترائے گا اکثر ایسے واقعات بچوں کے ساتھ ان کے سکولز میں پیش اتے ہیں ۔ اس پر سہما ہوا بچہ سکول جانے سے ہی بھاگے گا اسی طرح ہمارے خاندانی نظام میں قریبی رشتہ دار یا دور پار کے عزیز بھی اکثر بچوں کے ساتھ کسی نہ کسی صورت اٹیچ ہو جاتے ہیں۔

والدین اپنی مصروفیات اور دوسروں پر بے جا اعتماد کے باعث اپنے بچوں کو ان لوگوں کے ساتھ سکول ، مارکیٹ یا کسی پارک میں بھیج دیتے ہیں ۔ اب ان میں سے کچھ بد عادت لوگ اس اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھا کر یا بچوں کو ان کی من پسند چیزوں کا لالچ دے کر ان کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیتے ہیں اب بچہ ایسے لوگوں سے وحشت کھا کے ان سے دور بھاگتا یے ساتھ جانے سے کتراتا یے مگر بے خبر والدین بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر ساتھ جانے پر مجبور کرتے ہیں

رکئے اگر آپ کا بچہ کسی عزیز ، رشتہ دار ڈرائیور سے گریز کرنے لگا ہے تو اسے مجبور نہ کیجئے بلکہ فوری طور پر آرام سے اپنے بچے پر اعتبار کیجئے اسکا اعتماد بحال کیجئے اصل وجہ تو جان لیجئے

!پیارے قارئین 

یہ بچے ہمارا کل سرمایہ ہیں ۔ آنے والا کل ھیں ۔ہمارے گھر کے آنگنوں کی رونق ان کے دم قدم سے یے ۔ انہیں آپ کی توجہ محبت اور کوالٹی ٹائم درکار یے ۔ معاشرہ ایسے درندوں سے بھرا یے جو ہر وقت اپنی ہوس مٹانے کو شکار کی تلاش میں رہتے ہیں اور ہمارے بچے ان کا تر نوالہ ثابت ہوتے ہیں یہ حیوان کہیں بچے کے استاد کے روپ میں ملیں گے تو کہیں ٹیوٹر بن کر کہیں ان کے اندر کا شیطان سپارہ پڑھنے آنے والے شاگرد پر جھپٹے گا تو کہیں کبھی معلم کی صورت

کبھی یہ بچے کی سکول وین کا ڈرائیور بن کر یا کسی چچا ماموں کے مقدس رشتے کا چوغہ پہن کر ملے گا آپ کے بچے میں اگر اوپر دی گئی علامات موجود ہیں تو چونک جائیے بیدار ہو جائئے اپنے بچے کی شخصیت کو ہمیشہ کے لئے مسخ ہونے سے بچا لیجئے بچوں کے ساتھ دوستی کیجئے اس طرح کہ وہ اپ کے ساتھ کوئ بات بھی شئیر کرنے سے ہر گز شرم محسوس نہ کریں
اپنے آنگن میں کھلے ان پھولوں کی نگہداشت ایسے کیجئے جیسے گلاب کے ساتھ کانٹا

اول تو نوبت ہی نہ آنے دیں کہ آپ کا جگر گوشہ کسی کی دست ہوس کا نشانہ بنے لیکن خدا نخواستہ اگر ایسا ہو جائے تو پوری طرح اپنے بچے کے ساتھ کھڑے ہو جائیں اسے اس ٹراما سے نکلنے کے لئے آپ کا محبت بھرا ساتھ درکار یے اپنے بچوں کو ساتھ لگا کر اپنے وجود کی حرارت ضرور دیں اپنے لمس کا احساس بخشیں کیونکہ یہ آپ کے گلشن حیات میں کھلے وہ پھول ہیں جنکی آبیاری صرف آپ کا فریضہ ہی نہیں بلکہ اپ سے اس بارے میں باز پرس بھی ہو گی خدارا ان کومل کلیوں کو پامال ہونے سے بچا لیجئے


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>