لاہور یونیورسٹی ’پرپوزل’ کی ویڈیو ، نوجوان کن مشکلات سے گزرا؟

لاہور میں نجی یونیورسٹی میں پرپوزل کی ویڈیو سے مشہور ہونے والے لڑکے شہریار رانا نے ایک یوٹیوب چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ مجھے کافی خوشی ہوئی جب اس لڑکی نے مجھے پرپوز کیا مجھے یوں لگا جیسے کوئی فلمی سین ہے۔ جب یہ ویڈیوز دیکھیں تو یقین ہی نہیں آیا کہ یہ میں ہی ہوں مگر بعد میں جو کچھ ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔

واضح رہے کہ 4 ماہ قبل یونیورسٹی آف لاہور میں لڑکی نے لڑکے کو پھول دے کر اسے شادی کےلیے پرپوز کیا تھا اس واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے اس جوڑے کو یونیورسٹی سے بےدخل کر دیا تھا۔

اس کے بعد وفاقی وزیر فواد چوہدری، معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گِل، پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی اور بختاور بھٹو سمیت مختلف سیاسی شخصیات نے طلبا کو یونیورسٹی سے نکالنے کی مخالفت بھی کی تھی۔

اپنے حالیہ انٹرویو میں شہریار رانا نے کہا کہ میرا تعلق ایک پسماندہ علاقے سے ہے، سرگودھا کے ساتھ میرا علاقہ کوٹ مومن ہے اور میرے والدین یا اہلخانہ کو میڈیا کے بارے میں زیادہ معلوم نہیں ہے اور جب اس معاملے پر شدید تنقید کی گئی تو وہ بہت پریشان ہوئے۔

شہریاررانا کا کہنا تھا کہ میرے والدین بہت زیادہ دباؤ کا شکار تھے اور جب وہ پریشرائزڈ تھے تو ظاہر سی بات ہے میں نے بھی دباؤ کا شکار ہونا تھا، وہ بہت مشکل وقت تھا الحمداللہ اب وہ وقت گزرچکا ہے۔

شہریار نے کہا کہ میرے والدین پریشان تھے کہ اس کا کیریئر خراب ہورہا ہے، اب یہ کیسے آگے داخلہ لے کر ڈگری پوری کرے گا، کر بھی پائے گا یا نہیں یا لوگ اتنی تنقید اور نفرت کا اظہار کررہے ہیں تو کہیں کچھ ہو نا جائے۔ مگر میں یونیورسٹی انتظامیہ کا مشکور ہوں کہ اسی معاملے پر دوبارہ ایک کمیٹی بنی، انہوں نے معاملے پر نظرثانی کرکے مجھے یونیورسٹی آنے اور اپنی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دی۔

نوجوان نے کہا کہ ہماری جنریشن کے دل میں کوئی بھی بات آتی ہے چاہے وہ اچھی ہو یا بری وہ کرجاتے ہیں، یہ آزاد خیالی ہے، اگر ہم یہی چیز چھپ کر کرتے تو ٹھیک تھا اب سب کے سامنے کرلیا تو ہم برے ہیں۔ لوگوں کی ذہنیت کا کچھ کہہ نہیں سکتے پل میں تولہ پل میں ماشہ ہوتی ہے، لوگوں نے جس نفرت کا اظہار کیا اس سے ہمیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

شادی سے متعلق سوال پر شہریار نے کہا کہ میں نے غلطی کی کہ گھروالوں سے پوچھے بغیر پرپوزل قبول کیا اور وہ پوری دنیا میں وائرل ہوگیا۔ اب گھر والے کہتے ہیں کہ ڈگری مکمل کرو، کیریئر بناؤ اس کے بعد جو دل کرے کرو، میری تعلیم مکمل ہونے میں 2 سال رہتے ہیں اس کے بعد ہی شادی ہوگی۔

شہریار کا مزید کہنا تھا کہ مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ وائرل ہوجائے گا، جب یونیورسٹی گروپ میں ویڈیو آئی تب بھی میرے ذہن میں یہی تھا کہ ویڈیو گروپ میں ہی رہے گی باہر نہیں جائے گی۔ ویڈیو کو جب عورت مارچ سے جوڑا گیا تو پھر ہمیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اس ویڈیو کو اس سے نہیں جوڑنا چاہیے تھا۔

  • How would he feel if his sister did the same. He should have had some modesty and would have walked away rather than going ahead and hugging that girl. I can understand it is their private matter but still it is not something to be done in Public.

  • Beta tu bohat bara laantee hay… Kal tei betee ko neechay say haath daal ker jab koyee larkaa Khulay aam College mein Frenchie maaray ga tu kya uss larkay ko aut teri betee ko College Inaam dey gaa.

    Pakistan mein pahlay hee maa baap apnee betyoon ko college nahee bhaygtay tu nay sabit ker diya…

  • برے کاموں کے برے ہی نتیجے ہوتے ہیں، برا کام چاہے چھپ کر کریں یا سر عام. بلکہ سر عام زیادہ برا ہے کیونکہ اس کے اثرات دوسروں پر بھی پڑتے ہیں،لہذا اس کی مذمت بھی زیادہ شدید ہی ہونی چاہیئے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >