سکھر: والدین کی بیماری پر 9 سالہ بچی نے خاندان کی ذمہ داری اپنے سرلے لی

سکھر سے تعلق رکھنے والی 9 سالہ بچی ریما نے اس عمر میں جب اس کے ہاتھ میں کاغذ قلم اور کھلونے ہونے چاہییں تب اس نے پورے گھر کی ذمہ داری اپنے ہاتھوں میں لے لی۔

ناتواں کندھوں پر گھر میں پڑی بیمار ماں اور چھوٹے بہن بھائیوں کی گزر بسر کی ذمہ داری ہے جس کیلئے وہ گلی گلی آئس کریم بیچتی ہے۔

ریما کے چھوٹے اور ننگے پاؤں ابھی اس بھاری بھرکم سائیکل کو کھینچنے کے قابل نہیں مگر وہ اپنا حوصلہ نہیں ٹوٹنے دیتی کیونکہ یہ چھوٹی سی بچی ہی اپنے گھر کی بڑی ہے۔ وہ سندھ کے ضلع سکھر میں گلی گلی جا کر آئسکریم بیچتی ہے جس سے گھر کو چلانے میں مدد ملتی ہے۔

اس بچی کا کہنا ہے کہ اس کا والد اور والدہ دونوں بیمار ہیں ان کے علاوہ گھر میں چھوٹے چھوٹے بہن بھائی ہیں جن کی ساری ذمہ داری اسی پر ہے کیونکہ وہ بہن بھائیوں میں بڑی ہے۔

ریما کا کہنا ہے کہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے کہ خود کیلئے روزی اپنے ہاتھوں سے کمائی جائے۔ اس بچی کا کہنا ہے کہ پڑھنے کو تو اس کا بھی دل کرتا ہے مگر گھر چلانے کے لیے اسے کام کرنا پڑتا ہے۔

اس کے والد کا کہنا ہے کہ پہلے اس کی بیوی بیمار تھی تو وہ کچھ بھی کر کے گھر چلانے کی کوشش کرتا تھا مگر اب چونکہ وہ خود ہی بیمار ہو گیا ہے اس لیے گھر کی ذمہ داری ریما پر آ گئی ہے۔

ریمار کے والد نے حکومت سے اپیل کی کہ ان کے خاندان کی کچھ معاونت کی جائے تاکہ گھر کو چلانے اور چھوٹے بچوں کو تعلیم دلائی جا سکے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >