ڈیجیٹل میڈیا کمپنیوں کا حکومت سے پالیسیوں پر نظرثانی کا مطالبہ سامنے آ گیا

حکومتی اقدامات صارفین کے ذاتی تحفظ اور پرائیویسی کو خطرے میں ڈال دیں گے، ڈیجیٹل کمپنیوں کا حکومت سے آن لائن ریگولیشن کے قواعد پر نظر ثانی کا مطالبہ

تفصیلات کے مطابق انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجیز کی بڑی کمپنیوں مثلاً فیس بک، ٹوئٹر، گوگل، ایمازون، ایئر بی این بی، ایپل، بکنگ ڈاٹ کام، ایکسپیڈیا گروپ، گریب، لنکڈ ان، لائن، راکوٹین اور یاہو (اوتھ) پر مشتمل صنعتی اتحاد ایشیا انٹرنیٹ کولیشن نے حکومت کے ڈیجیٹل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے اقدامات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے

اس سلسلے میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے آے آئی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر جیف پین نے کہا کہ ’حکومت پاکستان کی جانب سے اسٹیک ہولڈرز اور انڈسٹری کے ساتھ مشاورت کیے بغیر وسیع پیمانے پر آن لائن قواعد کا ایک مجموعہ جاری کرنے پر ایشیا انٹرنیٹ کولیشن کو گہری تشویش ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ قواعد اظہار رائے کی آزادی کو مجروح اور شہریوں کے ذاتی تحفظ اور پرائیویسی کو خطرے میں ڈال دیں گے، ہم حکومت پر زور دیتے ہیں کہ ان رولز پر دوبارہ غور کیا جائے جو ممکنہ طور پر پاکستان کے ڈیجیٹل اکانومی کے عزائم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں‘۔

خیال رہے کہ ’سیٹیزن پروٹیکشن (اگینسٹ آن لائن ہارم) رولز 2020‘ کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 اینڈ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ، 2016 کے تحت نوٹیفائیڈ کیا گیا تھا۔

ان قواعد میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے پاکستان میں مواد اور روابط کے حوالے سے وسیع گائیڈ لائنز شامل ہیں جس میں وفاقی دارالحکومت میں مستقل دفتر قائم کرنا، شہریوں کے ڈیٹا کی پرائیویسی کے لیے ملک میں ہی اسے ریکارڈ اور محفوظ کرنے کے ساتھ کمپنی کی ریگولیشن پالسیز سے قطع نظر حکومت کی جانب سے کسی مواد کو ہٹانے کی درخواست پر عمل کرنا شامل ہے۔


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

>