عزیز میمن جیسے لوگ سستی شہرت کیلئے ایسا کرتے ہیں،مرتضیٰ وہاب کاپراناکلپ وائرل

مرتضیٰ وہاب کا مقتول عزیز میمن سے متعلق پرانا کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ۔۔ مرتضی وہاب نے اس وقت عزیز میمن کے بارے میں کہا تھا کہ ”یہ لوگ شہرت حاصل کرنے کیلیے ایسا کرتے ہیں یہ بلیک میلنگ ٹیکٹکس ہوتی ہیں“

جس وقت عزیز میمن نے خبر بریک کی تھی کہ بلاول کے ٹرین مارچ میں خواتین کو پیسے دیکر لایا جارہا ہے اس وقت مرمرتضیٰ وہاب نے کہا تھا کہ یہ لوگ شہرت حاصل کرنے کیلیے ایسا کرتے ہیں یہ بلیک میلنگ ٹیکٹکس ہوتی ہیں۔۔

نادیہ مرزا کے اس ایک سال پرانے شو میں اس وقت مرتضیٰ وہاب نے کہا تھا کہ انہوں نے خواتین کو Manipulate کرکے ان سے بیان لینے کی کوشش کی

یہاں افسوسناک امریہ ہے کہ جس شخص کے بارے میں مرتضیٰ وہاب نے کہا یہ شہرت حاصل کرنے کیلئے ایسی خبریں دیتے ہیں اور بلیک میلنک کررہے ہیں۔ آج وہی شخص قتل ہوگیا ہے۔ اس وقت اسے قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں لیکن اب اس شخص کا بہیمانہ طریقے سے قتل ہوگیا اور اسکی لاش کو الیکٹرک تار سے گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا اور بعدازاں لاش ایک نہر میں پھینک دی گئی تھی۔

مقتول صحافی عزیز میمن کو گزشتہ سال بلاول بھٹو کے ٹرین مارچ کے دوران شہرت ملی تھی جب انہوں نے ٹرین مارچ میں 200 روپے لے کر آنے والی خواتین جیالوں کی اسٹوری کی تھی۔

خبر کے بعد مقتول صحافی عزیز میمن کو دھمکیاں مل رہی تھیں جس کا اظہار انہوں نے کئی بار کیا بھی تھا اور ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا تھا۔۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سندھ حکومت کے ترجمان اب بھی اس دعوے پر قائم ہیں کہ عزیز میمن نے سستی شہرت حاصل کرنے اور بلیک میلنگ کیلئے ایسا کیا؟

  • عزیز میمن ایک نڈر بہادر سندھ کا بیٹا اور ایماندار صحافی تھا اور وہ اپنی ایمانداری اور بہادری کی وجہ سے شہید کر دیا گیا گورنمنٹ کو اس کی مکمل تحقیقات کرانے اور اس کی فیملی کو مکمل تحفظ اور مالی کفالت کے ساتھ ساتھ پاکستان کا اعلئ سول اعزاز نشان امتیاز کا اعلان کرے تاکہ مستقبل میں آنے والے صحافی برادری میں نڈر بہادری سے صحافت کا فریضہ ایسی طرح ایمانداری سے انجام دیتے رہیں جیسا کہ عزیز میمن نے اپنا فرض ادا کیا


  • 24 گھنٹوں کے دوران 🔥

    View More

    From Our Blogs in last 24 hours 🔥

    View More

    This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

    >