ٹیکنالوجی کی مدد سے کورونا وائرس کا مقابلہ، تانیہ ایدروس کو ٹرولنگ کا سامنا

 

گوگل میں خدمات سرانجام دینے والی2008 میں گوگل کمپنی کے جنوبی ایشیاء کی کنٹری منیجر کے عہدے سے پراڈکٹ ڈائریکٹر بننے والی تانیہ ایدروس کو جب پاکستان میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں خدمات سرانجام دینے کی پیشکش کی گئی تو انہوں نے گوگل میں اپنے روشن مستقبل کے بجائے پاکستان کو ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے کرنے کیلئے کردار ادا کرنے کو ترجیح دی اور وزیراعظم نے انہیں ڈیجیٹل پاکستان ویژن کا سربراہ بنادیا۔

گوگل میں اس اہم پوزیشن پر ذمہ داریا ں سرانجام دینے والی شخصیت اپنے شعبے میں کتنی مہارت رکھتی ہوگی اس کا اندازہ اس کے عہدہ اور ادارے کے نام سے لگایا جاسکتا ہے، گوگل کے ساتھ کام کرنا دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد کیلئے ایک خواب ہے کیونکہ موجودہ دور کی ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ سے آنے والی تمام تر جدت گوگل کی مرہون منت ہے۔

پوری دنیا میں ٹیکنالوجی کی مدد سے بحرانوں پر قابو پایا جاتا ہے تانیہ ایدروس نے بھی کورونا وائرس کے اس بحران میں ٹیکنالوجی کی مدد لینے کی ٹھانی ، اور اپنی ٹیم کے ہمراہ حکومت کی جہاں ممکن ہوسکا مدد کرنا شروع کی، اس حوالے سے انہوں نے ٹویٹ کیا کہ 3 دن سے وہ کوروناوائرس کے خلاف حکومت کے قائم کردہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر میں موجود ہیں اور ہم کوشش کررہے ہیں کہ اس بحران میں ٹیکنالوجی کی مدد سے کیسے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں ہمارے رضا کار وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا کے ساتھ تعاون میں لگے ہوئے ہیں۔

ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے چند رضا کاروں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ہم کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے ڈیٹا اینالیٹکس کی ٹیکنیکس استعمال کررہے ہیں ہم اس کے ذریعے دیٹا کو سٹریم لائن کریں گے جو ہمیں فرنٹ لائن سے موصول ہورہا ہے پاکستان کے چند بہترین سافٹ ویئر انجینئرز رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔


ان ٹویٹس پر 2 صحافیوں کی جانب سے ٹرولنگ شروع کردی گئی یہ دونوں صحافی پاکستان میں اپنے شعبے میں ذیادہ تجربہ بھی نہیں رکھتے تو ناجانے انہیں ٹیکنالوجی کی تانیہ ایدروس سے زیادہ سمجھ بوجھ کہان سے ملی کہ انہوں نے ایسے ٹویٹس شروع کردیئے جیسے وہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں زیادہ معلومات اور مہارت رکھتے ہیں۔

 

صحافی عمر قریشی نے لکھا کہ "کیا یہ حقیقت ہے؟ یہ کسی مذاق سے کم نہیں کیسے بے بس لوگ ہیں اس ملک سے کورونا وائرس سے چند لیپ ٹاپس کے ذریعے مقابلہ کریں گے”۔

ایک دوسرے صحافی سرل المیڈا نے لکھا کہ” جب یہ لوگ حکومت سے کھیلنے لگیں تو مجھے ڈائریکٹ میسیج کریں”۔

یہ دونوں افراد صحافت میں کوئی بہت نامی گرامی نہیں ہیں اپنے شعبے میں نام کمانے اور محنت کرنے کے بجائے دوسرے شعبوں میں کسی اچھے کام کیلئے پہل کرنے والوں پر بلاجواز تنقید کرنے سےمشہور ہونا شارٹ کٹ ہوسکتا ہے لیکن اگر ایسے شارٹ کٹ سے ترقی مل بھی گئی تو وہ پائیدار نہیں ہوگی، بجائے بلاجواز تنقید اور نکتہ چینی کرنے کے اچھے قدم اٹھانے والوں کی حوصلہ افزائی کریں کیونکہ بے وجہ تنقید کچھ کر گزرنے کے جذبے کو کچل کر رکھ دیتی ہے اور ہمیں پاکستان کیلئے ایسا جذبہ رکھنے والوں کی شدید ضرورت ہے۔

  • For all the tunnel visioned and inebriated heads out there, what she precisely referred to is employing tele-medicine to acquire data from the the confirmed and suspected patients of Corona. This minimizes physical contact with the patient and improves safety of the healthcare Personal, let alone conserving resources for personal protection I.e. face masks, contact gowns etc. An overwhelming number of healthcare facilities in Europe and North America are using this modality to treat Corona infected patients.
    Still too mum to get the gist……..? It’s like FaceTiming with the patient!

  • She is using Geo-fencing technology. A confirmed coronavirus patient’s mobile number is used to track down how many people in the last 14 days he has been with and sending text messages to those warning them to stay in isolation. My friends in Pakistan have received those messages. If you have been a few meters away from a confirmed corona patient your number will be tracked down and you will get the message.

  • عمر قریشی اور سرل امیدا دونوں ارزان اور بد زبان انسان ، یہ دونوں صحافت اور اخلاق کی تنزلّی کا چلتا پھرتا اشتہار ہیں ۔ حقیقی حثیئت دروازہ باہر باندھنے کی بھی نہیں مگر غیر ملکیوں کی مفادات کی ترویج کیلئے گھڑے پتلے ہیں۔ انکو ٹیکنالوجی کا کیا علم ، کسی میٹرک پاس جتنا معلوم ہو اس کی بھی امید نہیں ۔۔


  • 24 گھنٹوں کے دوران 🔥

    View More

    From Our Blogs in last 24 hours 🔥

    View More

    This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

    >