کورونا وائر س سے بچاؤ کیلئے "عطیہ” ہونے والا جہاز کباڑ نکلا

 

کورونا وائر س سے بچاؤ کیلئے عطیہ ہونے والا جہاز کباڑ نکلا

کورونا وائرس کا خوف ہر کسی کے ذہن پر سوار ہوچکا ہے، عالمی وبا کے پھیلنے کے بعد ہی سوشل میڈیا پر من گھڑت خبروں میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے ایسی ہی ایک مثال ڈیلی پاکستان نے قائم کی۔
ڈیلی پاکستان کے ایک اینکر نے سوشل میڈیا پر خبر دی کہ کیپٹن آصف رضا نے 4 سے 5 کروڑ کےپرائیویٹ جیٹ کو ایئر ایمبولینس بنا کر ڈونیٹ کردیا ہے جو کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو چھوٹے علاقوں سے ہسپتالوں تک منتقلی کیلئے استعمال ہوگا۔


ایک صحافی طاہر عمران میاں نے ٹویٹر پر ا س خبر کا بھانڈہ پھوڑتے ہوئے لکھا کہ ڈیلی پاکستان کے ایک اینکر من گھڑت خبر کو پھیلا رہے ہیں جس میں ایک ایئر ایمبولینس اور فنڈ ز ڈونیٹ کرنے کی کہانی سنارہے ہیں یہ ایک مضحکہ خیز خبر ہے جس پر کوئی اندھا بھی یقین نہیں کرسکتا ۔

انہوں نے ڈیلی پاکستان کے پروگرام کے کلپس پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ جسے ڈیلی پاکستان کے اینکر جیٹ طیارہ کہہ رہے ہیں وہ ایک ٹربو پروپ ہے اور اس کی حالت دیکھ کر اس کی قیمت جو اینکر نے بتائی اس پر یقین کرنا ناممکن ہے۔

سینئر صحافی نے جہاز کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ 1975 کا ایک بزنس لائینر ہے اور یہ اس حالت میں کسی صورت بھی 4 سے 5 کروڑ کا نہیں ہوسکتا، مجھے حیرت ہے کہ کون اپنے مکمل شعور میں اس پر یقین کرے گا، اینکر کو کوئی معلومات نہیں ہے جس معاملے پر وہ بات کررہے ہیں، معلومات نہ ہونا کوئی بری بات نہیں ہے لیکن کسی چیز پر اپنی رائے دینے سے پہلے تحقیق کی جاسکتی ہے جس کی اینکر صاحب نے کوئی ضرورت محسوس نہیں کی اور ایک من گھڑت کہانی سنا ڈالی۔


انہوں نے مزید کہا کہ ڈیلی پاکستان کی اس رپورٹ میں اینکر نے دعوی کیا کہ یہ پہلی ایئر ایمبولینس سروس ہوگی ایک جھوٹا دعوی ہے پاکستان میں ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس سالوں سے ایئر ایمبولینس اور ہیلی کاپٹر موجود ہیں، اس کے علاوہ عسکری ایوی ایشن اور دیگر محکموں کے پاس بھی یہ سہولت دہائیوں سے میسر ہے۔

طاہر عمران میاں نے ڈیلی پاکستان کی رپورٹ کے سب سے بڑے دعوے کے یہ ایک مفت سروس ہے کو جھوٹا ثابت کرتے ہوئے لکھا کہ نام نہاد کپتان نے بھی یہ دعوی کیا کہ یہ مفت سروس ہے ، جی ہاں یہ بالکل مفت ہے کیونکہ یہ جہاز اڑ ہی نہیں سکتا،میں دہراتا ہوں یہ جہاز اڑنے کے قابل ہی نہیں ہے پاکستانی سول ایوی ایشن کے مطابق ایئر کرافٹ اے پی – اے وائی جے اڑان کے لائق نہیں ہے اور ایوی ایشن سے ڈی رجسٹرڈ ہے۔

انہوں نے جہاز کے بارے میں لکھا کہ فلیٹ ٹائر والا یہ جہاز جس کا پینٹ بھی اکھڑ چکا ہے انجن بھی ناکارہ ہے خستہ حالت میں ہے، ایوی ایشن کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق آصف رضا یا ان کے نام نہاد کریو میں سے کسی کے پاس پاکستان سول ایو ایشن کا لائسنس نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی جہاز کی ملکیت رکھتے ہیں۔


صحافی طاہر عمران میاں نے لکھا کہ یہ سارا ڈرامہ فنڈ ریزنگ کیلئے ہے اور سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنا کر پیسے اینٹھنے کا طریقہ ہے تو اس جہاز کی اصل حالت دیکھنے کے بعد اگر کوئی اب بھی تعاون کرنا چاہتا ہے تو ایدھی فاؤنڈیشن کے ساتھ کرے۔


  • 24 گھنٹوں کے دوران 🔥

    View More

    From Our Blogs in last 24 hours 🔥

    View More

    This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

    >