جیو کے صحافی کی ڈاکٹریاسمین کی ویڈیو پرلوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش

جنگ ، جیو کے صحافی فخردرانی کی ڈاکٹریاسمین راشد کی ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین کو گمراہ کرنے کی کوشش۔۔ سوشل میڈیا صارفین کا سخت ردعمل

فخر درانی نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی ویڈیو شئیر کی اور لکھا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد فرما رہیں کہ میو ہسپتال میں فوت ہونے والے مریض میں جن تھے اسلیے عملہ ڈر کے بھاگ گیا۔میری پنجاب حکومت کی کرونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ کےچئیرمین سے بات ہوئی وہ کہتےرات 3:25 منٹ پر انکی آکسیجن ڈراپ ہوگئی تھی۔نیبولائز کرنےسےریکور ہوگئے تھے۔

جبکہ حقیقت میں ڈاکٹر یاسمین راشد نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا ۔ اس ویڈیو میں ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا تھا کہ کہ مریض نے کہا: "مجھے یہ نظر آ رہا ہے وہ نظر آرہا ہے، فلاں میرے پر پتا نہیں جن ہیں۔ وہ ڈبل ڈور کر دھکا مار کر باہر نکل گئے، وہ بہت مزاحمت کررہے تھے تو بینڈیج سے انکے ہاتھ باندھے، وہ ساری رات سوئے رہے، صبح وہ اٹھے تو نرس سے کہا کہ انہوں نے واش روم جانا ہے، وہ واش روم گئے اور وہیں گرگئے”۔

سوشل میڈیا صارفین نے فخردرانی کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ میر شکیل الرحمان کے نوکر کو جھوٹ بولتے ہوئے شرم آنی چاہئے، یہ گھٹیاپن اور نیچ پن کی انتہا ہے۔ اسے جھوٹ کے پیسے ملتے ہیں، ایک کرپٹ بزنس مین کا نوکر کرپٹ ہی ہوسکتا ہے۔

وزیراعلیٰ کے فوکل پرسن اظہر مشوانی نے ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ گھٹیا پن اور نیچ پن کی انتہا جہاں ختم ہوتی وہاں سے ان لوگوں کا آغاز ہوتا ہے۔ پورا کلپ سنیں ایسی کوئی بات نہیں کی ڈاکٹر یاسمین نے جو میر شکیل کے نوکر نے لکھی ہے۔ ساری ٹویٹ من گھڑت ہے اور لوگ سنے دیکھے بغیر ریٹویٹس کر رہے ہیں

اکبر نامی صارف نےلکھا کہ نیچے ویڈیو ہے جس میں ڈاکٹر یاسمین کچھ اور بول رہی اوپر کپشن اور ٹویٹ میں فخر درانی نے لمبے لمبے جھوٹ لکھ دئے ہیں .. کتنا جھاکا کھلا ہوا ہے کھلم کھلا جھوٹ کا کے پتہ بھی ہے ویڈیو دیکھ کر لوگ میرا جھوٹ پکڑ لینگے لیکن پھر بھی لکھ دیا ہے .. کیونکہ جھوٹ کے پیسے ملتے ہیں ..

نعمان خان نے لکھا کہ ایک کرپٹ بزنس مین کا نوکر صرف جھوٹ ہی لکھ سکتا ہے اس سے ذیادہ اور کیا ثبوت ہوگا۔اس کلپ کو سنیں اور دیکھیں نوکری کیسے کیسے کام کروا لیتی ہے۔اس قسم کے نوکر ہی ایک صحافت جیسے مقدس پیشے کو بھی بازارو بنا دیتے ہیں

مدثر نامی سوشل میڈیا صارف نے فخردرانی کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ سر کان صاف کرائیں یا پھر دل و دماغ تا کہ آپکو سمجھ آئے ڈاکٹر یاسمین کیا کہہ رہی ہیں۔ کیوں اپنے کیریئر اور پیشہ کیلئے گالی بن رہے ہیں؟

اینکر طارق متین نے فخردرانی کے ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے وہ نہیں کہا جو ٹویٹ میں لکھا ہے ۔ ویڈیو ڈیڑھ منٹ کی ہے دیکھنے کے بعد لکھا جائے تو غلطی کا احتمال کم ہو جاتا ہے۔

بعدازاں سوشل میڈیا صارفین نے سخت ردعمل دیا تو فخردرانی کے تصحیح کی کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنی طرف سے یہ نہیں کہا کہ اس بندے میں جن ہیں۔ بلکہ فوت ہونے والے بزرگ نے کہا کہ اس میں جن ہیں۔ غلطی کی معذرت

اسکے باوجود فخر درانی نے اپنا پرانا ٹویٹ ڈیلیٹ نہ کیا۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More