ارطغرل غازی کے سرکاری ٹی وی پر دکھانے سے متعلق ایک ختم نہ ہونے والی بحث

ارطغرل غازی شہرت کی بلندیوں کو چھوتا ہی چلا جا رہا ہے جبکہ اس کے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے جانے کے خلاف ہونے والی بحث بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ اس حوالے سے پاکستانی ٹی وی اور فلم انڈسٹری کے بیشتر لوگ اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں جبکہ کئی حکومتی ارکان بھی اس کی مخالفت میں بیان دے چکے ہیں دوسری جانب اس ڈرامے کی پی ٹی وی پر پیش کش کو کچھ لوگ سراہ بھی چکے ہیں۔

ارطغرل غازی کی پی ٹی وی پر پیش کش کو سراہنے والوں کا خیال ہے کہ مقامی سطح پر اس درجے کی پروڈکشن نہیں ہو پا رہی تھی اس لیے ترک ڈرامے کو پی ٹی وی پر پیش کیا گیا۔ جس سے سرکاری ٹی وی چینل کی مقبولیت میں بھی فرق پڑا ہے۔

اس بحث میں گزشتہ روزسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے براڈ کاسٹنگ کے چیئرمین فیصل جاوید نے فواد چودھری کو جواب دیتے ہوئے لکھا تھا کہ جب پاکستان میں بھارتی مواد نشر کیا جا رہا تھا تب کسی نے اعتراض کیوں نہیں کیا؟

اس پر ردعمل دیتے ہوئے معروف اداکار اور میزبان واسع چودھری نے کہا کہ مختلف سوشل میڈیا فورمز پر بھارتی مواد نشر کیے جانے کے خلاف وہ آواز اٹھا چکے ہیں مگر تب یہ فورمز اس قدر اثر نہیں رکھتے تھے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بھارتی مواد نشر کرنے پر کسی کو اعتراض نہیں تھا۔

انہوں نے مزید لکھا کہ وہ خود اس ڈرامے کی 200 سے زائد اقساط دیکھ چکے ہیں اور ڈرامے کی کوالٹی یا پیش کش پر اعتراض نہیں بلکہ اس کو سرکاری چینل پر پیش کیے جانے پر اعتراض ہے اس تنقید کو صرف ارطغرل سے جوڑنے کے بجائے عالمی کاروبار کے اصولوں کو مدنظر رکھا جائے۔

جس کے جواب میں فیصل جاوید خان نے لکھا کہ وہ اس بات کو مانتے ہیں مگر اس کے لیے سب سے پہلے پی ٹی وی کے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرنے کے لیے ناظرین کی توجہ اس چینل پر مبذول کرانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں نے دیگر پاکستانی اداروں کی طرح پی ٹی وی کو بھی ناکام بنا دیا تھا اس لیے حکومت کو یہ حکمت عملی اپنانا پڑی۔

اس ڈرامے سے متعلق کچھ روز قبل فیصل جاوید کی وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی سے بھی بحث ہو چکی ہے۔ جس میں انہوں نے فواد چودھری کو ارطغرل غازی پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ارطغرل غازی جیسا مواد ہماری ٹی وی کی صنعت میں مدد فراہم کرے گا۔ہمیں کچھ ایسا ہی تاریخی اور ثقافتی مواد نشر کرنا چاہیے۔ ڈراموں اور فنون لطیفہ کا تبادلہ دو طرفہ ہونا چاہیے۔

فیصل جاوید نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری ڈرامہ انڈسٹری پروڈکشن اور ٹیلنٹ کے لحاظ سے بہترین ہے لیکن ہمیں اپنے مواد پر کام کرنے اور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ طرز اپنا کر ہم عالمی دنیا میں اپنے ڈراموں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔

31مئی کو فواد چودھری نے ارطغرل غازی کو سرکاری ٹی وی پر نشر کیے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ہمارے ٹی وی چینل بیرون ممالک سے سستے ڈرامے خرید کر چلانے لگ گئے تو ہماری مقامی انڈسٹری تباہ ہو جائے گی۔

فواد چودھری کے ٹویٹ کے جواب میں ردعمل دیتے ہوئے فیصل جاوید نے کہا کہ کاش ارطغرل غازی پر تنقید کرنے والے ٹی وی اور ریڈیو پر پیش کیے جانے والے بھارتی مواد پر بھی ردعمل دیتے۔انہوں نے لکھا کہ ہالی ووڈ کی فینٹسی سیریز گیم آف تھرونز کی ہمارے اپنے لوگوں نے تشہیر کی تو ارطغرل غازی جیسے ڈرامے پر تنقید کیوں کی جا رہی ہے۔

ترک ڈرامے ارطغرل غازی پر تنقید کرنے والے فواد چودھری پہلے شخص نہیں تھے بلکہ ان سے پہلے پاکستانی فلم اور ٹی وی انڈسٹری کے بیشتر ستارے اس ڈرامے کی سرکاری ٹی وی پر پیش کش کی مخالفت کر چکے ہیں۔

    Minister (2k + posts)

    ٹی وی چینلز کے بھانڈ میراثیوں کے شوز اور جگتوں میں قوم اب اپنا ٹائم ضائع کرنا نہیں چا رہی ھے اس لئے ان بھانڈ میراثیوں کے نیچے جیلیسی کی آگ لگی ہوئی ھے ارتغل غازی کی طرح کی شاہکار تاریخی ڈارامہ سیریل قومی ٹی وی چینلز پر ہی چلنی چاہئے ھے تاکہ سارے پاکستان میں عوام تاریخ سے آگاہ ہوں

    Minister (4k + posts)

    For some powers it is the most dangerous drama, it will wake up the nation and Umma, and those who are speaking against this serial are the one protecting the interest of those anti Islamic powers.

    (1 posts)

    ان بھانڈ کو فالتو کی بکواس اور آدھے ننگے بدن والے اور وہ ہی ساس بہو کی جگتیں اور پھر طلاق جیسے ڈرامے ہی اچھے لگتے ہیں۔ یہ ایک تاریخی حیثیت رکھنے والا ڈرامہ ہے ہاں مانا کہ کچھ تھوڑی بہت تبدیلیاں کی گئی ہیں ڈرامے میں مگر حقیقت جو  وہ دیکھانا چاہتے ہیں وہ یہ ہی ہے کہ یہودی ہمیشہ سے یہ ہی کرتے آرہے ہیں مسلمانوں کے ساتھ مسلمان آپس میں لڑتے رہیں اور یہ اپنے مقاصد پورے کرتے رہیں گے۔ یہ سب کے سب بھانڈ ہیں ان کو اس ڈرامے میں ہر وقت اللہ کا نام لینا توبہ استغفار کرنا ان کا اسلامی طرز عمل لباس یہ سب اچھا نہیں لگتا۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More