پی آئی اے کے ساتھ سٹیل مل فری،سوشل میڈیا صارفین نے مفتاح اسماعیل کو ماضی یاد دلا دیا

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی پاکستان سٹیل ملز کے تمام ملازمین کو فارغ کرنے کے حکومتی فیصلے پر تنقید جبکہ خود ماضی میں پاکستان سٹیل مل مفت دینے کا اعلان کرتے رہے

پاکستان سٹیل مل کے خسارے کے پیش نظر حکومت نے پاکستان سٹیل مل کے تمام ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان سٹیل مل گزشتہ کئی سالوں سے اربوں روپے کا خسارہ کررہی تھی اور گزشتہ پانچ سال سے بند تھی لیکن ملازمین کو گھر بیٹھے تنخواہیں مل رہی تھیں۔ اس ضمن میں حکومت نے پاکستان سٹیل مل کے ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اس حکومتی فیصلے پر حکومت اور اسد عمر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔

مفتاح اسماعیل ن لیگی حکومت میں وزیر خزانہ رہے، پانچ سال انکی حکومت رہی لیکن نہ تو سٹیل مل خسارے سے نکل سکی بلکہ ن لیگ حکومت نے پاکستان سٹٰل مل کو ہی بند کردیا تھا اور ملازمین گھر بیٹھے تنخواہیں لیتے رہے۔

مفتاح اسماعیل جب وزیر خزانہ تھے تب انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ حکومت پاکستان سٹیل مل اور پی آئی اے چلانے میں ناکام رہی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مفتاح اسماعیل یہ بھی اعتراف کرتے رہے کہ وہ پانچ سال تک پی آئی اے میں ڈائریکٹر رہے ہیں لیکن انہیں سمجھ نہیں آئی کہ پی آئی اے نقصان کیوں کررہی ہے۔

مفتاح اسماعیل جب وزیر خزانہ تھے تو انہوں نے اعلان کیا تھا کہ اگر کوئی پی آئی اے خریدے گا تو سٹیل مل مفت دیں گے

اس وقت کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک میڈیا ٹاک کے دوران کہا تھا کہ پاکستان سٹیل بند پڑی ہے، پی آئی اے کے قرضے ادا کرنےوالےکوسٹیل ملز مفت میں دی جائے گی، واجبات ادا کریں پاکستان سٹیل مفت میں لے جائیں۔ پاکستانی قوم کاپیسہ تنخواہوں پرضائع کیاجارہاہے۔ حکومت پاکستان سٹیل مل کو اپنے پاس کیوں رکھے بہتر ہے کہ اسے کسی کو دے دیا جائے۔

مفتاح اسماعیل آج سٹیل مل پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں لیکن اپنا وقت بھول گئے جس پر سوشل میڈیا صارفین نے انکے پرانے بیانات چلاکر انہیں یاددہانی کرادی کہ وہ ماضی میں کیا کہتے رہے۔

کچھ سوشل میڈیا صارفین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مفتاح اسماعیل نے کرونا وبا کو جواز بناکر اپنی کمپنی "کینڈی لینڈ” سے بہت سے ملازمین کو فارغ کردیا تھا، اب وہ کس منہ سے تنقید کررہے ہیں۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More