پاکستانی ٹک ٹاکرز کی لاکھوں کی کمائی

بھارت نے چین سے شکست کھا کر دنیا بھر میں مشہور چینی ایپ ٹک ٹاک کو بلاک کردیا۔ جس سے بھارتی ٹک ٹاکرز کو کرنا پڑے گا نقصان کا سامنا کیونکہ ان کی ذریعہ آمدنی جو بند ہوگئی۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں پاکستانی ٹک ٹاکرز ایک وقت میں کتنا کما لیتے ہیں۔ نہیں ناں تو ہم بتاتے ہیں۔

پاکستانی نوجوان فیس اور انسٹاگرام کے بجائے اب ٹک ٹاک پر زیادہ وقت گزارتے ہیں،  پاکستانی نوجوان ٹک ٹاک پر ویڈیوز بناکر لاکھوں کمالیتے ہیں۔ اس بات کا انکشاف خود پاکستانی ٹک ٹاکرز نے احسن خان کے پروگرام میں کیا۔  احسن خان نے اپنے شو میں پاکستان کے مشہور ٹک ٹاکرز کو بلایا اور ان سے ان کی آمدنی کے بارے میں پوچھا۔

شو میں ٹک ٹاک اسٹار اریکا حق جن کے ٹک ٹاک 5.4 ملین فالوورز ہیں، مجتبیٰ لاکھانی اور ایمن زمان جن کے 2.6 ملین فالوورز اور ٹک ٹاک کی مشہور بھائی بہن کی جوڑی شیری اور مشال ملک  نے شرکت کی۔

ٹک ٹاک اسٹار مہینے میں کتنا کما لیتے ہیں؟

ٹک ٹاک اسٹار مہینے میں کتنا کما لیتے ہیں؟ دیکھیئے بول نائٹس ود احسن خان کی مکمل قسط: https://www.bolentertainment.com/episodes/tik-tok-stars-palwasha-bashir-in-bol-nights/#BOLEntertainment #BOLNights #AreekaHaq #SherryButt #MishalButt #MujtabaLakhani #AimanZaman #PalwashaBashir

Posted by BOL Entertainment on Monday, April 20, 2020

احسن خان کے پوچھنے پر اسٹارز نے بتایا کہ ان کی آمدنی کا انحصار ان کی ویڈیوز کی تعداد، اسپانسرز ویڈیوز اور کمپنی پرہوتا ہے،اریکا  نے بتایا کہ وہ ٹک ٹاک پر ویڈیو بنا کر ماہانہ ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے تک کمالیتی ہیں۔مجتبیٰ لاکھانی اور ایمن زمان نے بتایا کہ انہوں نے ایک موبائل فون کمپنی کی مہم  کے لئے ٹک ٹاک ویڈیو بنائی تھی جس کے انہیں ایک لاکھ 60 ہزار روپےکی آمدنی ہوئی تھی۔ شیری اور مشال نے بتایا کہ ان دونوں کی ماہانہ آمدنی 4 لاکھ  تک ہے۔  دونوں بہن بھائیوں کی مزاحیہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر خوب مقبول ہوتی ہیں۔

دنیا بھر میں آج سوشل میڈیا کا دن منایا جارہاہے۔ ٹوئٹر، فیس بک، انسٹا گرام سمیت دیگر سوشل پلیٹ فارم پر اپنے خیالات کا اظہار کئے بغیر، ایک ایک لمحے کی خبر سوشل میڈیا پر ڈالے بغیر اب تو گزارا مشکل ہوگیا ہے۔ سوشل میڈیا کی اسی اہمیت کو دیکھتے ہوئے دوہزار دس سے اس دن کو منانے کا آغاز کیا گیا۔

    (1 posts)

    Before the trend of YouTube’s and ticktockers generation was use too work very hard to earn fame and money. They invest their time in learning and gaining knowledge and sharing knowledge.  Now these apps were introduced in third world countries. Mostly used by third world countries to destroy their youth and make them earn money through cheap videos and sitting idle at home. These developer companies are destroying out youth for some serious purpose and we are busy in posing and acting and doing memcry on these apps.

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More