انسٹاگرام نے میری پوسٹ کو’فلسطین’کا لفظ ہونے پر ہٹا دیا،امریکی ماڈل

انسٹاگرام نے میری پوسٹ کو'فلسطین'کا لفظ ہونے پر ہٹا دیا،امریکی ماڈل

امریکی ماڈل بیلا حدید کا کہنا ہے کہ میری پوسٹ میں لفظ ‘فلسطین ‘ ہونے پر انسٹاگرام نے اس پوسٹ کو ہٹا دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بیلا حدید نے اپنے والد اور ان کے جائے پیدائش’فلسطین ‘ سے متعلق ایک پوسٹ کی جسے انسٹاگرام نے کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے ہٹا دیا۔

بیلا حدید نے اپنے والد کےپاسپورٹ کی تصویر شیئر کی جس پر ان کی جائے پیدائش ‘فلسطین’ درج تھی، اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے ماڈل نے لکھا مجھے "فلسطینی ہونے پر فخر ہے”، پوسٹ شیئر ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی انسٹاگرام کی جانب سے ہٹا دی گئی۔

انسٹاگرام نے میری پوسٹ کو'فلسطین'کا لفظ ہونے پر ہٹا دیا،امریکی ماڈل

بیلا نے اپنی اگلی پوسٹ میں انسٹاگرام کی جانب سے موصول ہونے والا نوٹیفکیشن شیئر کیا جس میں درج تھا اس پوسٹ نے انسٹاگرام کی کمیونٹی گائیڈ لائنز ، نفرت آمیز تقریر، ہراسمنٹ اور جملے کسے جانے کی خلاف ورزی کی ہے۔

امریکی ماڈل نے لکھا کہ مجھے سمجھایا جائے کہ فلسطینی ہونے پر فخر کرنے والی پوسٹ کیا ہراسمنٹ ،  یا جنسی پوسٹ ہے؟ کیا انسٹاگرام  پر فلسطینی ہونے کی اجازت نہیں ، میرے لیے یہ رویہ ہراسمنٹ ہے، آپ لوگوں کو خاموش کروا کر تاریخ کو مسخ نہیں کرسکتے۔

انسٹاگرام نے میری پوسٹ کو'فلسطین'کا لفظ ہونے پر ہٹا دیا،امریکی ماڈل

یاد رہے کہ امریکی ماڈل نے پہلی بار فلسطین کے حوالے سے پوسٹ نہیں کی تھی، وہ اکثر ہی اپنے اجداد کے وطن سے اپنی وابستگی سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کرتی رہتی ہیں، 2017 میں امریکہ میں ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیئے جانے کے خلاف ہونے والے احتجاج میں بھی بیلا حدید نے شرکت کی تھی۔

 

 


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >