اسرا بیلجک کو کیو موبائل کا برانڈ ایمبیسڈر بنانے پر پاکستانی اداکاروں میں بے چینی

اسلامی فتوحات پر مبنی شہرہ آفاق ترک ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی کے کرداروں نے ہر میدان میں دھوم مچا رکھی ہے، ہر پاکستانی اس ڈرامے کی کاسٹ کے سحر میں مبتلا ہے اب نہ صرف پاکستانی بلکہ اس ڈرامے کے کردار بھی پاکستان سے غیر معمولی پسندیدگی پر اظہار تشکر کرتے نظر آتے ہیں.

QMobile is proud to announce #EsraBilgic famous for playing Halime Sultan from #Ertugrul as its ambassador for View Max…

Posted by QMobile on Sunday, July 12, 2020

در حقیقت نہ صرف سوشل میڈیا پر پاکستانیوں کے پیار کے اظہار نے بلکہ غیر معمولی چاہت نے بھی ڈرامے میں مرکزی کردار نبھانے والی حلیمہ سلطان(ایسرا بیلجک) کو پاکستانی کمپنیز کے ساتھ کام کرنے پر مجبور کر دیا ہے.

تاہم آپ یہ جان کر بھی خوش ہوں گے کہ ایسرا بیلجک اب پاکستانی موبائل فون برانڈ کیو موبائل کی برانڈ ایمبیسڈر ہیں.

ایک طرف تو ایسرا بیلجک کے کیو موبائل کے برانڈ ایمبیسڈر بننے پر ان کے مداح خوش ہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ کب موبائل فون کی تشہیر کی جائے گی. جبکہ دوسری جانب پاکستانی شوبز کے لوگ اس خبر سے بے چینی کا شکار ہیں.

اداکار یاسر حسین نے انسٹاگرام پر سٹوری لگائی جس میں لکھا کہ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ پاکستانی برانڈ کے لیے ایمبیسڈر بھی پاکستانی ہونا چاہیے. انہوں نے مزید لکھا کہ نہ بھارتی نہ ہی ترکی بلکہ پاکستان زندہ باد۔

یاسر حسین کی اس سٹوری کی تقلید کرتے ہوئے اداکارہ ایمن خان نے اسی سٹوری کا سکرین شاٹ لے کر لکھا کہ بالکل صحیح کہا اور اداکارہ مناہل خان نے بھی لکھا کہ ہاں بالکل ایسا ہی ہے کیوں نہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی متعدد پاکستانی اداکار ارطغرل غازی کو پاکستان میں دکھانے کی مخالفت کر چکے ہیں۔

  • تھرڈ کلاس گھٹیا لوگ ہیں جب کیو موبائل انڈین اداکاروں کو لے کر اپنے موبائلوں کی مشہوریاں کررہا تھا تب ان کنجروں کو زرا بھی اعتراض نہیں تھا وہاں اگر انکو ترکی کی اداکارہ کا اشتہار نظر آئے گا تو انکو تکلیف ہوگی ۔ یہ انکی تھرڈ کلاس فنکار برادری کے ساتھ ظلم ہورہا ہے

  • ماہرہ خان کے لیے ایک سئنیر فنکار فردوس جمال کو سوشل میڈیا اور ٹی وی میڈیا پرخوب ذلیل کیا گیا ہے۔پھر یہ امید رکھتے ہیں ہم ان گھٹیا اداکاروں کو سپورٹ کریں گے۔

  • یہ بیغرت ان کو شرم آنی چاہیے ھے جس کے نصیب میں جو ھے وہ اس کو ملتا ھے ان فنکاروں کی گھٹیا سوچوں سے پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں

  • "فن کی کوئی سرحد نہیں”

    جب کوئی انڈین اداکار پاکستان میں، یا کوئی پاکستانی اداکار انڈیا میں منہ کالا کرتا ہے تب یہی میراثی یہ کہتے ہیں کہ جی فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔

    منافق کہیں کے۔

  • احساس کمتری کے مارے ہوۓ گھٹیا لوگ گھٹیا سوچ سوائے مجروں اور گھٹیا فلموں کے کیا دیا ہے ان نئے نئے  میراثیوں اور ….. نے ؟ ان بیغر توں کو اپنے پرانے اداکاروں سے ہی کچھ سیکھنا چاہیے تھا کیسے کیسے لیجنڈ گزرے ہیں ہمارے فنکاراور کچھ لیجنڈ تو ابھی تک زندہ بھی ہیں لیکن گوشہ گمنامی میں

  • kya aap ko nhi lagta k Pakistani Dramon ki khaniyan b INDIAN ya HOLLYWOOD jesi FAHASH ni honi chahyen. ak drama e to tha jo family k sath beth k dekha ja skta tha lakin uska b mayaar itna gira dia gya k sharam aati he, matlab kya dikha or kya lesson dena chah rhe ho aap log new generation ko? koi sabaq amaiz drama he aaj ki tareekh men aap k pas siwaey iski biwi bhga li ya us ki behan ya kisi ki beti , Shows men bula k dance krwa lo , in ISHQ MASHUQIYON  k ilawa or dikha e kya rhe ho aap log. ye jo ho rha he is pe ghor kro or seekho  to pta chal jaey ga aap logon ko k Pakistaniyon ki demand kya he aap logon se pr aap dikha kya rhe ho. Mayaar se khud girey ho neechey , Turk actors ka kuch lena dena ni is se.

  • These desi liberals are real hypocrites. They have no issue with Indians but due to Islamic content in Ertugrul now they are jealous of Turkish actors’s glories. Now there are boundaries of art, which are not exist before. 


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >