رہنما جے یو آئی (ف) مفتی کفایت اللہ کا توہین رسالت کے ملزم کے قتل پر خوشی کا اظہار

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مفتی کفایت اللہ نے پشاور کی عدالت میں جج کی موجودگی میں توہین رسالت کے ملزم کے قتل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ "ملکی تاریخی میں آج پہلی بار عدالت میں انصاف دیکھنے کو ملا”۔

تفصیلات کے مطابق ایک  قادیانی شخص پر توہین رسالت کا الزام تھا جس کی سماعت کے لیے اس کو عدالت لایا گیا یہ کیس 2سال سے عدالت میں زیر سماعت تھا۔ قادیانی کمیونٹی کے ترجمان طاہر احمد کے مطابق وہ شخص قادیانی گھرانے میں پیدا ہوا تھا مگر کئی سال پہلے قادیانیت کو چھوڑ چکا تھا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق مقتول ذہنی مریض تھا اور گولی لگنے پر موقع پر ہی ہلاک ہو گیا تھا۔

قاتل جو کہ ایک مدرسے سے فارغ التحصیل ہے اس کو پولیس نے کمرہ عدالت سے گرفتار کر لیا اس کا دعویٰ ہے کہ اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں آ کر ایسا کرنے کو کہا، دوسری جانب یہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ ملزم کمرہ عدالت میں پستول لے کر کیسے پہنچا۔

  • قاتل کا بیان کہ نبی کریمﷺ نے اسے خواب میں کہا کہ اسے قتل کردو۔،میرے خیال میں دروغ
    گوئی لگتی ہے ۔انکے استاد مفتی کفائت اللیٰ صاحب کہتے تو انسان مان سکتا ہے۔خیر جو بھی ہوا ا اسلامی قانون و شریعت کے مطابق قاتل کو سزا ہونی چاہیئے۔

  • These actions as reaction will not and can not be stopped. Ahmedis are saying they accept the person Mirza Qadiyan as the last messenger, they have altered Quran, and then they say they should be accepted as Muslims which is a wrong demand, that doesn’t mean I favor killings, but the problem is then you cannot stop some people who just cannot compromise with this disrespect of Islam and the last prophet Muhammad P.B.U.H. If ahmadis have made a religion out of LA ILAHA ILLALLAH , MUHAMMAD UR RASUL ALLAH, it is logical they cannot be called Muslims.
    I am very moderate, I have Ahmadi friends whom I love and have great respect for them, but they are demanding a wrong thing.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >